آذربائیجان اور آرمینیا میں خونریز جنگی تصادم اور آرمینیا میں مارشل لا کا نفاذ

آرمینیا کا آذربائیجان کے دو جنگی ہیلی کاپٹر اور کئی ٹینک تباہ کرنے کا دعوی جبکہ آذربائیجان کی طرف سے آرمینیا کے 12 ڈیفنس میزائیل سسٹم تباہ کرنے اور اپنے متعدد مقبوضہ دیہات آزاد کروانے کے دعوے کیے جا رہے ہیں

0
504
armenia and azerbaijan conflict 2020
آرمینیا اور آزربائیجان کی فوجوں کے مابین متنازعہ ناگورنو کاراباخ کے علاقے میں جنگی تصادم شروع ہو گیا ہے۔ آرمینیا نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آذربائیجان کا ایک جنگی ہیلی کاپٹر مار گرایا ہے۔ جبکہ آزربائیجان کی طرف سے آرمینیا کے دس سے زیادہ ڈیفنس سسٹم تباہ کرنے کا دعوی کیا جا رہا ہے۔
 
آرمینیا کے ترجمان کے مطابق آذربائیجان نے ہیلی کاپٹروں اور بھاری توپ خانے سے حملہ شروع کیا تھا ۔ جس کے فوری بعد ملک میں مارشل لا کے نفاذ ، فوج اور ریزرو فوجی دستوں کو مکمل متحرک کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ جبکہ دوسری طرف آذربائیجان کا کہنا ہے کہ حملہ آرمینیا کی طرف سے کیا گیا ہے۔ اور آذربائیجان کی طرف سے پورے محاذ پر گولہ باری کا مونہہ توڑ جواب دیا جا رہا ہے۔ انٹرنیشنل پریس میڈیا کے مطابق دونوں ممالک کے سرحدی علاقوں میں متعدد شہریوں کی ہلاکت کی اطلاعات ہے۔
 

اس صورت حال میں روس کی وزارت خارجہ نے امن کی بحالی کیلئے فوری طور پر جنگ بندی اور مسائل کے حل کیئے بات چیت کا مطالبہ کیا ہے۔ یاد رہے کہ 1991ء میں پاک افغان جنگ کے خاتمے اور روس کے ٹوٹنے تک آرمینیا اور آذربائیجان سوویت یونین کا حصہ تھے۔

یہ دونوں ممالک گذشتہ تیس برس سے متنازعہ ناگورنو کاراباخ کے مسئلہ پر باہمی تنازعہ میں ہیں۔ ناگورنوکاراباخ کو بین الاقوامی سطح پر آذربائیجان کا قانونی حصہ تسلیم کیا جاتا ہے لیکن یہ نسل پرست آرمینیائیوں کے کنٹرول میں ہے۔
 
یاد رہے کہ ان دونوں ملکوں کے مابین جولائی میں ہونے والی سرحدی جھڑپوں میں بیس کے قریب افراد کی ہلاکتیں ہوئیں تھی۔ جس کے بعد آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں ایک بڑے مظاہرے میں اس علاقے کو مکمل متحرک کرنے اور دوبارہ قبضہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
آرمینیائی وزارت دفاع نے بتایا ہے کہ 8 بج کر 10 منٹ پر شہری آبادیوں پر حملہ شروع ہوا۔ اس کے بعد اس کی فوجوں نے آذربائیجان کے دو جنگی ہیلی کاپٹر اور تین ڈرون طیارے مار گرائے ہیں۔ آرمینیا نے آذربائجان کے تین ٹینک تباہ کرنے کا دعوی کیا ہے۔
 
آرمینیا نے کہا کہ اس کا ردعمل مونہ توڑ جواب ہوگا اور آذربائیجان کی عسکری اورسیاسی قیادت کو اس صورتحال کی مکمل ذمہ داری قبول کرنا ہو گی۔ خبررساں ذرائع نے ایک خاتون اور بچے کی موت کی اطلاع دی ہے جبکہ مذید ہلاکتوں کی اطلاعات کی تصدیق جاری ہے۔
۔

آرمینیا کے وزیر اعظم نکول پشینیان نے کہا ہے کہ فوج اور عوام مقدس وطن کے دفاع کیلئے تیار ہوجائیں۔ انہوں نے آذربائیجان پر پہلے سے طے شدہ جارحیت کی منصوبہ بندی کا الزام عائد کیا تھا۔

 
دوسری طرف آذربائیجان نے آرمینیا کو جنگی تصادم شروع کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ آذربائیجان کی وزارت دفاع کے ترجمان کے مطابق آرمینائی فوجوں کی شدید گولہ باری کے نتیجے میں کئی دیہاتوں میں شہری ہلاکتوں اور زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں ۔ جبکہ شہری آبادیوں اور انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
 
آذربائیجان نے آرمینیا کی مسلح افواج کی جارحیت کا جواب دینے اور شہری آبادیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے پورے محاذ پر جوابی جنگی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔ آذربائیجانی ترجمان نے کہا کہ ان کا جو ایک ہیلی کاپٹر تباہ ہوا ہے اس کا عملہ زندہ سلامت ہے۔ جس کے بعد جوابی حملوں میں آرمینیا کے 12 ڈیفنس سسٹم تباہ کر دیے گئے ہیں
۔

آذربائیجان کی وزارت دفاع نے دعوی کیا ہے کہ گذشتہ کئی سالوں سے آرمینیا کے قبضے میں رہنے والے متعدد مقبوضہ دیہات اس کی فوج نے اتوار کے روز آزاد کرا لئے ہیں۔

 

Leave a Reply