آذربائیجان کا مقبوضہ علاقوں پر قبضہ اور صدر اردوغان کا حمایت کا اعلان

ترکی کی طرف سے برادر اسلامی ملک آذربائیجان کی کھلی حمایت کے اعلان بعد دوسری طرف آرمینیا کے حامی روس اور ترکی کے مابین شدید کشیدگی کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے

1
518
Azerbaijan and Armenia fightings 2020
عالمی پریس اینڈ میڈیا کے مطابق آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان نیگورنوکاراباخ کی شدید جھڑپوں میں سو سے زائد ہلاکتوں اور دو سو کے قریب زخمیوں کی اطلاعات ہیں۔ آذربائیجان نے آرمینیا کے پندرہ ائرڈیفنس میزائیل سسٹم اور دس سے زائد بکتر بند یونٹ تباہ کر دئے ہیں۔ آذربائیجان کی طرف سے دشمن کے 90 فوجیوں کی ہلاکتوں ، متعدد مقبوضہ دیہات پر قبضے ، آرمینیا کئی دفاعی تنصیبات تباہ کرنے اور مقبوضہ علاقوں میں پیش قدمی کا دعوی ہے۔
 
عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق آذربائیجان کی طرف سے آرمینیا کیخلاف بھاری توپوں اور ٹینکوں سے مسلسل گولہ باری جاری ہے۔ ان تباہ کن حملوں میں آرمینیائی فوج کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ دوسری طرف آرمینیا نے آذربائیجان کے دو ٹینک اور ایک ہیلی کاپٹر تباہ کرنے کا دعوی کیا ہے، لیکن آذربائیجان ان دووں کو مسترد کر رہا ہے۔ جبکہ ترکی کی طرف سے برادر اسلامی ملک آذربائیجان کی کھلی حمایت کے بعد دوسری طرف آرمینیا کے حامی روس اور ترکی کے مابین شدید کشیدگی کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
۔
۔ 
ترک صدر رجب طیب اردوان کا کہنا تھا کہ ترکی عوام آذربائیجان کے بھائیوں سے ہمیشہ کی طرح ہر ممکن تعاون کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ آرمینیا اور اس کے حلیف نسل پرستوں کی جارحیت اس خطے کے امن واستحکام کیلیے بڑا خطرہ بن رہی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ آرمینیا کی جارحیت کو روکنے کے لیے اہم اقدامات کرنے میں ناکام رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آرمینیا اس جارحیت کو ختم کرے ورنہ پورے خطے میں ہولناک آگ لگ جائے گی۔
 
خیال رہے کہ فوجی قوت کے اعتبار سے تیل کی دولت سے مالامال آذربائیجان اپنے حریف آرمینیا سے چار گنا طاقت ور ہے۔ لیکن روس کی طرف سے بھرپور فوجی امداد اور شہہ کی بدولت آرمینیا اور اس کے نسل پرست جنگجو حلیف آذربائیجان کے علاقوں پر قابض ہیں۔ جبکہ عالمی برادری نیگورنو کاراباخ کو آذربائیجان کا قانونی حصہ تسلیم کرتی ہے۔

عالمی خبر رساں ایجنسیوں نے کئی بار اس امر کی تصدیق کی ہے کہ مقبوضہ نیگوروکاراباخ پر قابض نسل پرستوں کی طرف سے مساجد کی تالہ بندیاں ہوئی ہیں۔ اور آرمینائی نسل پرستوں کے ہاتھوں مسلمان آبادی مسلسل سنگین مظالم کا شکار ہے۔

۔
نیگورنو کاراباخ کا علاقہ 4 ہزار 400 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے اور 50 کلومیٹر آرمینیا کی سرحد سے جڑا ہے۔ آرمینیا نے مقامی نسل پرست جنگجووں کی مدد سے آذربائیجان کے علاقے پر باہر سے حملہ کرکے قبضہ کرلیا تھا۔ قبل ازیں رواں برس جولائی میں بھی دونوں ممالک کے درمیان بدترین جھڑپیں ہوئی تھیں، جس کے نتیجے میں دونوں اطراف کے 16 افراد مارے گئے تھے۔ عالمی برادری کی جانب سے کشیدگی روکنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں تاہم دونوں حریف ممالک کے درمیان جھڑپیں ہوتی رہی ہیں۔
 

آذربائیجان کے صدر نے کہا ہے کہ اپنے مقبوضہ علاقوں کی مکمل آزادی تک جنگ جاری رکھی جائے گی۔  ہم آرمینیا کی مسلسل جارحیت کا مونہ توڑ جواب دیں گے۔  قوم سے ٹیلی ویژن خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ پوری قوم نیگورنوکاراباخ کی آزادی تک جنگ کیلئے تیار رہے۔

Leave a Reply