Friday, September 24, 2021

خشوگی کے قتل میں ملوث محمد بن سلمان کا عروج سے پہلے زوال قدرتی مکافات عمل ہے

پاکستان کے دفاعی ماہرین سے فیض یابی اور احسانات بھلا کر بھارت سے دفاعی تعلقات استوار کرنے والے سعودی حکمران اب اپنی دفاعی ضروریات کیلیے یا تو روس اور چین کی طرف رجوح کریں گے ۔ یا پھر اسرائیل سے دفاعی تعلقات قائم کرنے پر مجبور ہو جائیں گے

امریکہ نے سعودی صحافی جمال خشوگی کے قتل کے بارے سی آئی اے کی تحقیقاتی رپورٹ افشا کر دی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نےاستنبول میں سعودی صحافی جمال خشوگی کے قتل کے آپریشن کی منظوری دی تھی۔

امریکہ نے 76 سعودی شہریوں پر ویزوں کی پابندیاں عائد کی ہیں۔ تاہم ان افراد اور پابندیوں کی نوعیت کے بارے تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔ سی آئی آے کی رپورٹ اور یہ پابندیاں عرب دنیا کے طاقتور ترین شخص محمد بن سلمان کی بین الاقوامی ساکھ اور سیاسی طاقت کیلئے بڑا دھچکہ ہیں۔

 مغربی طرز زندگی کے دلدادہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کیخلاف جمال خشوگی کے بہیمانہ قتل میں ملوث ہونے کی امریکی رپورٹ کے بعد مغربی ممالک کیلیے بھی اب محمد بن سلمان کے ساتھ قریبی تعلقات رکھنا مشکل ہو گا۔ محمد بن سلمان کے قتل میں ملوث ہونے کے بارے مغربی انٹیلیجنس ایجنسیوں کو بہت پہلے سے حقائق کا علم تھا۔ لیکن سی آئی اے کی رپورٹ سے پہلے، ان ایجنسیوں نے حقائق افشا نہیں کیے۔

کچھ مبصرین کا خیال تھا کہ سعودی عرب میں عوامی سطح پر محمد بن سلمان کیخلاف کوئی تنقید نہیں ہوئی۔ وہ طویل عرصہ حکمرانی کر سکتے ہیں۔ جبکہ میرے مطابق اس کی بڑی وجہ سعودی عرب میں حکومتی پالیسیوں کے بارے آزادیء اظہار پر قدغن اور شہری آزادیوں پر سخت پابندیاں ہیں۔ لیکن جمال خشوگی کیس کی یہ امریکی رپورٹ عوامی اور بین الاقوامی حلقوں میں ان کی ساکھ کو شدید متاثر کرے گی۔ ممکن ہے کہ ایک عرصے سے خاموش لوگوں کو لب کشائی کا حوصلہ ملے گا۔

صدر بائیڈن نے کا یہ اشارہ بڑا اہم تھا کہ وہ ولی عہد کے بجائے براہ راست شاہ سلمان کے ساتھ بات کریں گے۔ جبکہ صورت حال یہ ہے کہ شاہ سلمان 85 سال کی ضعیف عمری اور بیماری کے باعث عنان حکومت سنبھالنے کے قابل نہیں ہیں۔ زیادہ تر اختیارات محمد بن سلمان کو سونپے گئے ہیں۔ لہذا صدر بائیڈن کی صرف شاہ سلمان سے بات چیت کرنے کی تخصیص عملی طور پربے معنی ہو گی

خشوگی قتل کی تحقیقات کیلئے سی آئی اے کی سابق سربراہ جینا ہاسپل خود انقرہ گئیں تھیں۔ جہاں ترک اننٹیلیجنس نے انہیں ایک آڈیو ریکارڈنگ سنوائی تھی۔ یہ ریکارڈنگ قونصلیٹ میں سعودی ایجنٹوں کے ہاتھوں قتل ہوتے ہوئے جمال خشوگی کی زندگی کے وہ آخری لمحات تھے۔ جب انہیں قابو کرنے کے بعد ان کا سانس بند کیا جا رہا تھا۔ جس کے بعد ان کی لاش کو ٹکرے ٹکرے کر کے غائب کر دیا گیا تھا۔

ترکی کی طرف سے سعودی قونصلیٹ میں ریکارڈ کی گئی خفیہ ریکارڈنگ کو مغربی انٹیلجنس ایجنسیوں کے ساتھ شیئر کیا گیا ۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ تحقیقات میں سی آئی اے اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ میڈیم لیول سے ہائی لیول تک محمد بن سلمان قتل میں ملوث تھے۔

جب تک سابق صدر ٹرمپ اقتدار میں رہے ، وائٹ ہاؤس انتظامیہ نے اس خفیہ امریکی رپورٹ پر پردہ ڈال کر رکھا گیا۔ تاکہ صدر ٹرمپ کے قریبی اتحادی اور دوست کیخلاف کڑی تنقید نہ ہو ۔ لیکن ٹرمپ کا اقتدار ختم ہوتے ہی محمد بن سلمان کے قتل میں ملوث ہونے کی تحقیقاتی رپورٹ سے سارے پردے ہٹ گئے۔

سعودی عرب کی حکمرانی کیلئے محمد بن سلمان کبھی امریکہ کی ترجیح نہ تھے۔ امریکہ محمد بن نائف کو اگلا حکمران دیکھنا چاہتا تھا۔ لیکن 2017ء میں محمد بن سلمان ان کو عہدے سے ہٹوا کر خود ولی عہد بن گئے تھے۔ محمد بن نائف کے بارے اطلاعات ہیں کہ وہ خفیہ حراست میں ہیں۔ سعودی سرکار کے مطابق ان پر کرپشن اور محمد بن سلمان کے خلاف سازش کا الزام ہے۔ جبکہ ان کا خاندان ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔

حقائق بتاتے ہیں ماضی میں پہلے محمد بن سلمان امریکہ کے سب سے قریبی حلیف تھے۔ بطور وزیر داخلہ انہوں نے امریکی شراکت داری میں القاعدہ کو شکست دی تھی۔ محمد بن سلمان نے سعودی انٹیلیجنس چیف سعد الجبری کے ذریعے سی آئی اے کے ساتھ قریبی تعلق قائم کیا تھا۔ لیکن بعد میں وہ اسی دوست سعد الجبری کے بھی دشمن بن گئے ۔ جس کے بعد وہ سعودیہ سے فرار ہو کر ابھی تک کینیڈا میں خود ساختہ جلا وطنی کاٹ رہے ہیں ۔ سعد الجبری نے عدالت میں یہ الزام عائد کیا ہے کہ محمد بن سلمان نے ان کے قتل کیلئے بھی ایک سکواڈ بھیجا تھا۔

سعد الجبری کے بیان سے اس گمان کو تقویت ملتی ہے کہ محمد بن سلمان مخالفین کو قتل کروا کر راستے سے ہٹانے کی پالیسی پرعمل پیرا تھے۔ جب کہ وہ خود بھی اس امر سے واقف ہیں کہ سی آئی اے کی پاس ان کی زندگی کی ایسی مہم جوئیوں اور اہم رازوں کی معلومات کا ایک بڑا ذخیرہ موجود ہے۔

عالمی سطح پر داعش اور القاعدہ کے عالمی خطرے کے پیش نظر امریکہ اب بھی سعودی عرب کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتا ہے۔ لیکن امریکہ اب شاید ایک معتدل مزاج اور بہترین قوت فیصلہ کی صلاحیت کے حامل محمد بن نائف سے معاملات طے کرنے کا خواہاں ہو گا۔ امریکہ اب محمد بن سلمان جیسے اس شخص پر اعتماد نہیں کرے گا۔ جس نے جمال خشوگی کا قتل کروایا اور سعدالجبری جیسے وفادار آفسر کے قتل کی کوشش کی۔ امریکہ ایسے شخص پر اعتبار نہیں کرے گا جس کے بدلتے ہوئے مزاج کا کوئی اعتبار نہ رہے۔ سعودی ولی عہد کے ساتھ قدرت کا مکافات عمل کا کھیل زمانے کیلئے ایک عبرت انگیز سبق ہے ۔

خطے میں موجودہ حالات میں امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات میں دوری سعودی عرب کے سب سے بڑے حریف ایران کیلیے خوش آئیند ہے۔ امریکہ اور مغرب کی طویل پابندیوں کے باوجود، ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی پوزیشن مضبوط بنائی ہے۔ ایران نے لبنان، شام، عراق اور یمن میں اپنی ملیشیا پراکسی وار کے ذریعے سٹریٹجک رسائی مین اضافہ کیا ہے۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ سعودی مفادات ہر طرف سے ایران کے گھیرے میں آ چکے ہیں۔

یاد رہے کہ صدر بائیڈن نے یمن میں سعودی یمن جنگ میں امریکی ہتھیاروں کا استعمال روک دیا تو اس کے بعد ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے کئی محاذوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ امریکہ کی طرف سے ہاتھ کھینچ لینے کے بعد حوثی قبائل کی طرف سے سعودی ہوائی اڈوں پر دو بار میزائل حملے کئے گئے ہیں۔

گذشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان کے دفاعی ماہرین سے فیض یابی اور احسانات بھلا کر بھارت سے دفاعی تعلقات استوار کرنے والے  سعودی حکمران اب اپنی دفاعی ضروریات کیلیے یا تو روس اور چین کی طرف رجوح کریں گے ۔ یا پھر اسرائیل سے دفاعی تعلقات قائم کرنے پر مجبور ہو جائیں گے ۔ اس کی وجہ دونوں ممالک کے سامنے ایران کی بڑھتی ہوئی جنگی طاقت اور اس کے جوہری ہتھیاروں کی تیاری کا خوف ہے۔

یہ دراصل سعودی عرب کو اسرائیل کی طرف دھکیلنے کی امریکہ منصوبہ بندی بھی ہو سکتی ہے۔ ایسی صورت میں پاکستان پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کیلئے دباؤ پہلے سے کہیں زیادہ ہو گا۔ اور وہ یقینا ہماری خارجہ پالیسی اور مزاحمت کیلئے ایک کڑا امتحان ہو بھی ہو گا۔ مستقبل میں چین ترکی ایران اور پاکستان کی سٹریٹیجک شراکت داری خطے کا مضبوط ترین بلاک بن سکتی ہے۔ شرط یہ ہے کہ ہمارے حکمران ملکی مفادات کے عوض اپنے ذاتی مفادات کی ہوس کاری سے محفوظ رہیں۔ پاکستان زندہ و پائیندہ باد

جوبائیڈن کی سعودی عرب کے ساتھ دفاعی ڈیلز معطل کرنے کے بارے یہ خبر بھی پڑھیں

جو بائیڈن نے متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کو ایف ۔ 35 اور اسلحہ کی فروخت روک دی

DEFENCE ARTICLES

جے ایف - 17 کے جدید ورژن بلاک 3  میں فضا سے فضا میں مار کرنے والے...
In this March , Pakistan conducted a successful flight test of the Shaheen 1-A, a medium range...

Leave a Reply

DEFENCE NEWS

DEFENCE BLOG

OUR GULF ASIA NEWS SITE

GULF ASIA NEWS

Leave a Reply