جمال خاشقجی کی منگیتر نے محمد بن سلمان کو قتل کے جرم میں سزا کا مطالبہ کر دیا

خشوگی کی منگیتر نے کہا ہے کہ سعودی ولی عہد کو بلا تاخیر سزا دی جائے۔ اگر شہزادے کو سزا نہیں دی گئی تو سمجھا جائے گا کہ طاقت ور مجرم قتل کی سزا سے بچ سکتا ہے۔ یہ ہم سب کیلئے بڑا خطرہ اور انسانیت کے چہرے پر داغ ہوگا۔

 سعودی عرب نے جمال خاشقجی قتل کیس سے متعلق امریکی انٹیلی جنس رپورٹ مسترد کردی ہے۔ جبکہ خاشقجی کی منگیتر سینگز نے مطالبہ کیا ہے کہ امریکی سی آئی اے کی انوسٹیگیشن رپورٹ میں قتل کے حقائق افشا ہونے کے بعد اس قتل میں ملوث سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو قانون کے مطابق سزا دی جائے ۔

سعودی بادشاہت پر کڑی تنقید کرنے والے واشنگٹن پوسٹ اخبار کے کالم نویس جمال خشوگی کو استنبول میں سعودی قونصل خانے میں ایک اپریشن اسکواڈ کے ذریعہ بیدردی سے ہلاک کر دیا گیا تھا۔

خشوگی کی منگیتر نے کہا ہے کہ قاتل کےاحتساب کا وقت آگیا ہے۔ اب یہ ضروری ہے کہ سعودی ولی عہد کو بلا کسی تاخیر کے  سزا دی جائے۔ اگر ولی عہد کو سزا نہیں دی جاتی ہے تو ، یہ ہمیشہ کے لئے یہ اشارہ ہو گا کہ اصل طاقت ورمجرم قتل سے فرار ہوسکتا ہے۔ ایسا ہوا تو ہم سب کیلئے بڑا خطرہ اور ہماری انسانیت کے چہرے پر داغ ہوگا۔

امریکی انٹلیجنس کی رپورٹ میں پتا چلا ہے کہ شہزادہ محمد بن سلمان نے جمال خاشقجی کے قتل کی منظوری دے دی تھی۔ جبکہ عالمی مبصرین کے مطابق سابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اس معاملے پر پردہ ڈال رکھا تھا۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2017 کے بعد سے سعودی ولی عہد شہزادہ کا بادشاہت اور انٹیلیجنس تنظیموں پر مکمل کنٹرول ہے۔ اس بات کا امکان بہت کم ہے کہ سعودی عہدے داروں نے ولی عہد کی اجازت کے بغیر اس نوعیت کا عمل انجام دیا تھا۔ امریکی رپورٹ میں 21 افراد کا نام شامل ہے جنہوں نے خاشقجی کے قتل میں حصہ لیا تھا یا کسی اور طرح کے ملوث تھے۔ امریکہ نے خشوگی کے قتل میں ملوث افراد میں سے کچھ پر پابندیاں عائد کردی ہیں، لیکن ان میں شہزادہ محمد بن سلمان پر پابندی نہیں ہے۔

Read this news about Saudi – India Defence ties

India and Saudi Arabia are strengthening defence ties and strategic relation

گذشتہ ماہ امریکہ نے سعودی عرب کو یمن میں انسانی حقوق کی پامالیوں کیلئے جوابدہ قرار دیا تھا ۔ بائیڈن انتظامیہ نے یمن میں سعودی عرب کی جنگ کی حمایت ختم کردی تھی۔ صدر بننے کے بعد اپنی پہلی ملاقات میں بائیڈن نے گذشتہ ہفتے سعودی شاہ سلمان سے بات کے دوران عالمی سطح پر انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی پر امریکی موقف کی تصدیق کی تھی۔

سعودی حکومت نے ابتدا میں کہا تھا کہ اس کو خاشقجی سے متعلق کوئی معلومات نہیں ہے۔ بعد میں سعودی حکومت نے اس ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی لیکن کہا کہ اس آپریشن میں  شہزادہ محمد بن شامل نہیں تھا۔

جمال خشوگی کی منگیتر سینگز نے کہا کہ امریکی صدر اور تمام عالمی رہنماؤں کیلئے یہ ضروری سوال ہے کہ وہ خود سے  پوچھیں کہ کیا وہ کسی ایسے شخص سے مصافحہ کرنے کیلئے تیار ہیں جو ایک قاتل ثابت ہوچکا ہے۔ امریکی سی آئی اے کی انوسٹیگیشن رپورٹ میں حقائق سامنے آنے اور قتل کی ذمہ داری ثابت ہونے کے بعد سعودی ولی عہد شہزادہ کے پاس حکمرانی کا اب کوئی سیاسی اور قانونی جواز نہیں ہے۔

خاشقجی قتل کیس کی سی آئی اے رپورٹ کے بارے یہ خبر بھی پڑھیں 

خشوگی کے قتل میں ملوث محمد بن سلمان کا عروج سے پہلے زوال قدرتی مکافات عمل ہے

DEFENCE ARTICLES

جے ایف - 17 کے جدید ورژن بلاک 3  میں فضا سے فضا میں مار کرنے والے...
According to Pakistan armed forces media wing, Pakistan conducted a successful flight test of the Shaheen 1-A,...

Leave a Reply

DEFENCE NEWS

OUR INSTAGRAM

DEFENCE BLOG

OUR GULF ASIA NEWS SITE

GULF ASIA NEWS

Leave a Reply