Sunday, October 24, 2021

پاک فضائیہ کے شاہینوں کی بھارتی فضائیہ کیخلاف بے مثال تاریخ قوم کا فخر ہے

پاک فضائیہ نے ہمیشہ اپنی پیشہ ورانہ مہارت و عظمت اور بھارتی فضائیہ کی نا اہلی دنیا کو دکھا کر یہ ثابت کیا ہے کہ پاک فضائیہ اور اس کے جانباز ہوابازوں کو شکست دینا ناممکن ہے

دنیا کے جدید ترین طیاروں سے لیس ہندوستانی فضائیہ طیاروں اور عملے کی تعداد کے اعتبار سے دنیا کی چوتھی بڑی فضائیہ ہے۔ آزادی کے بعد سے پاکستان فضائیہ کے مقابلے میں بھارتی فضائیہ کا حجم تین گنا بڑا رہا ہے۔ لیکن اس ایڈوانٹج کے باوجود بھارتی فضائیہ کی پیشہ ورانہ کارکردگی انتہائی ناقص ہی نہیں اپنی قوم کیلئے بھی انتہائی مایوس کن رہی ہے۔

قیام پاکستان کے بعد 4 نومبر 1948ء کو بھارتی فضائیہ کے دو ہاکر ٹیمپیسٹ طیاروں نے پاک فضائیہ کے ایک ڈکوٹا ٹرانسپورٹ طیارے پر حملہ کیا لیکن بھارتی فضائیہ کے نا اہل پائیلٹ پاکستانی پائلٹ کی اعلی مہارت کی وجہ سے ایک سست رفتار ٹرانسپورٹ طیارہ تک گرانے میں ناکام رہے۔

بروز عید 10 اپریل 1959 پاک فضائیہ کی تاریخ میں ایک سرخ خط کا دن تھا ۔ جب عید کے دن بھارتی فضائیہ کا ایک کینبرا جاسوس طیارہ یہ سوچ کر پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوا کہ شاید پاک فضائیہ بھی عید منا رہی ہو گی ۔ لیکن پاک فضائیہ کے ایک ایف – 86 سیبر طیارے نے اس بھارتی طیارے کا استقبال اپنے طیارے میں موجود 1400 میں سے 1200 گولیوں سے پرخچے اڑا  کر کیا۔ پیراشوٹ سے کودنے والے بھارتی ہواباز کو گرفتار کر لیا گیا۔

پھر 4 جون 1965 کو بھارتی فضائیہ میں طوفانی طیارہ کہلانے والا ایک اوریگن فائٹر بمبار پاکستان میں داخل ہوا۔ اور پاک فضائیہ کے شاہینوں اسے ہتھیار ڈال کر اترنے پر مجبور کر کے پائلٹ کو گرفتار کر لیا۔ طیارہ اترنے کے بعد معلوم ہوا کہ طیارہ اس دور کے جدید ترین ہتھیاروں اور میزائیلوں سے مسلح تھا۔ لیکن بزدل بھارتی پائیلٹ میں پاک فضائیہ کے شاہینوں کا سامنا کرنے کا حوصلہ نہیں تھا۔

ستمبر 1965 کی جنگ

یکم ستمبر 1965 کو بھارتی فضائیہ نے جموں کے چھمب ایریا میں ، پاک فوج کیخلاف پہلا فضائی حملہ کیا۔ 12 ویمپائر اور 14 میسٹئیر لڑاکا بمبار طیاروں کا پاک فضائیہ سے سامنا ہوا تو پاکستانی سیبر طیاروں نے چار بھارتی ویمپائر طیارے تباہ کر دیے ۔ پاک فضائیہ کے شاہینوں کی جنگی مہارت سے خوف زدہ بھارتی فضائیہ نے اپنے ویمپائر طیاروں اور طوفانی اسکواڈرن کی تعداد دو تہائی کم کر کے باقی طیاروں کو محفوظ رکھنے کیلئے گراؤنڈ کر دیا ۔

پھر 3 ستمبر ہوائی جنگ کی تاریخ میں بھارتی فضائیہ کا پاک فضائیہ کے ایف 104 سے پہلی بار سامنا بھارت کیخلاف انتہائی ہزیمت اور ذلت آمیز ثابت ہوا ۔ بھارتی گناٹ طیارے کا پائیلٹ ایف – 104 کی ہیبت سے اس قدر خوف زدہ ہوا کہ اس نے لڑے بغیر ہتھیار ڈال دیے۔ وہ بھارتی طیارہ پاک فضائیہ کے کراچی میوزیم میں بھارتی فضائیہ کی ازلی و ابدی بزدلی کا گواہ بن کر آج بھی نمائش کیلئے موجود ہے۔

تاریخ ساز دن 6 ستمبر کو ہندوستانی فضائیہ کے پٹھان کوٹ کے ہوائی اڈے پر پاک فضائیہ کے حملے کو پاکستان اور بھارت سمیت دنیا بھر کے دفاعی تجزیہ کارعصری تاریخ کا کامیاب ترین فضائی حملہ قرار دیتے ہیں۔ پاک فضائیہ کے اس تباہ کن حملے میں بھارتی فضائیہ کے اس دور کے جدید ترین مگ -21 سمیت ایک درجن سے زائد طیارے اڑنے سے پہلے ہی زمین پر تباہ کر دیے گئے۔

مشرقی محاذ پر پاک فضائیہ کے پاس سائبر طیاروں کا صرف ایک سکواڈرن تھا۔ لہذا  یہاں 7 ستمبر کو وقتی طور پر نقصان اٹھانا پڑا۔ بھارتی فضائیہ کو صبح چٹاگانگ اور جیسور پر حملوں سے کچھ حاصل نہیں ہوا ۔ تاہم پاک فضائیہ نے جوابی حملے میں بھارتی فضائیہ کے مغربی بنگال میں کالائی کُنڈا کے فضائی اڈے پر کینبرا سمیت 14 طیاروں کو اڑنے سے پہلے ہی زمین پر تباہ کر کے پٹھان کوٹ کی تاریخ دہرا دی ۔ اس یادگار حملہ کرنے والے اسکواڈرن کو اسی زبردست اٹیک کے بعد ” ٹیل چوپٹرز ” کا نام ملا تھا۔

اسی 7 ستمبر ہی کے دن بھارتی فضائیہ نے پاک فضائیہ پر حملہ کرنے کی کوشش کی تو پاکستان کا ایک شاہین فضائی جنگ کی تاریخ میں اپنا نام لکھوانے کیلئے سربکف تیار تھا۔ سرگودھا کی فضاؤں میں فضائی جنگ کی تاریخ میں ایک منٹ سے کم وقت میں 5 بھارتی ہنٹر طیارے گرانے والے پاک فضائیہ کے شاہین ایم ایم عالم کا نام ہیشہ کیلئے امر ہو گیا

دسمبر 1971ء کی جنگ

   دسمبر 1971 میں مشرقی پاکستان میں ایف 86 کا صرف ایک سکراڈرن تعینات تھا۔ جبکہ پاک فضائیہ کے اس اکلوتے سکواڈرن کو بھارتی فضائیہ کے دس اسکواڈرن کا سامنا تھا۔ ان میں سے تین سکراڈرن اس وقت کے جدید ترین مگ 21 سے لیس تھے۔ دیگر یونٹوں میں بھی ایس یو 7 ، ہنٹرز ، گناٹ جیسے جدید طیارے شامل تھے۔ پاک فضائیہ کا یہ اکلوتا سکواڈرن سنگل رن وے خراب ہونے کی وجہ سے جنگ کے شروع ہی میں گراؤنڈ ہو گیا تھا۔ لیکن تب تک یہ سکواڈرن اپنے 5 طیاروں کے بدلے دس گنا بڑی بھارتی فضائیہ کے 11 طیارے تباہ کر چکا تھا۔ اس جنگ کے باقی دو ہفتوں میں بھارتی فضائیہ ان گراؤنڈ طیاروں میں سے ایک بھی طیارہ تباہ کرنے میں کامیاب نہ ہو سکی۔ لیکن بھارتی فضائیہ کے مذید 17 طیارے پاکستانی انٹی ائر کرافٹ گنوں کا شکار ہو گئے۔

اس جنگ میں 17 دسمبر 1971 کو پاک فضائیہ اور بھارتی فضائیہ کے مابین آخری معرکہ ہوا ۔ یہ مقابلہ پاکستانی ایف – 86 سیبر اور اس وقت کے جدید ترین سپرسونک مگ 21 کے مابین تھا۔ لیکن فلائیٹ لفٹیننٹ مقصود عامر نے ڈاگ فائیٹنگ کی اعلی مہارت کی بدولت سی 116 نمبر کے بھارتی مگ – 21 طیارے کے پرخچے اڑا دئے۔ پیراشوٹ سے اترنے والا بھارتی پائیلٹ گرفتار کر لیا گیا۔۔

کارگل جنگ میں بھارتی طیارے اپنے ملک کی فضائی حدود میں ہونے کے باعث پاک فضائیہ کے آتشیں حملوں سے محفوظ تھے۔ لیکن جب بھی انہوں نے پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کی ، تباہی ان کا مقدر ٹھہری۔ 17 مئی کو پاکستان نے بھارتی فضائیہ کا ایم آئی 17 جنگی ہیلی کاپٹر تباہ کر دیا جس میں عملے کے چاروں افراد ہلاک ہو گئے۔

پھر 27 مئی کے دن بھارتی فضائیہ کا ایک مگ – 21 اور ایک مگ – 27 پاکستان کے اپنے تیار کردہ زمین سے فضا میں حملہ کرنے والے عنزہ میزائیلوں کا نشانہ بن کر تباہ ہوئے ۔ مگ – 27 کا پائلٹ طیارے سمیت ہلاک ہو گیا جبکہ مگ – 21 کا پائلٹ فلائیٹ لفٹیننٹ کمبام پتی نچیکٹا گرفتار ہونے کے بعد 3 جون 1999 کو رہا کیا گیا۔ 7 جون 2002 کو پاک فضائیہ نے اسرائیلی ساختہ جاسوس ڈرون سرچر ایف -2 کو رات کے اندھیرے میں تباہ کر کے نئی تاریخ رقم کر دی۔

اور 27 فروری 2019ء کو یونس حسن شہید اور سرفراز رفیقی شہید جیسے جانبازوں کی پاک فضائیہ کے جوانمرد شاہینوں حسن صدیقی اور نعمان علی خان نے ایک بار پھر پاک فضائیہ کی پیشہ ورانہ مہارت و عظمت اور بھارتی فضائیہ کی نا اہلی دنیا کو دکھا کر یہ  ثابت کر دیا کہ پاک فضائیہ اور اس کے سرفروش ہوابازوں کو شکست دینا ناممکن ہے

تحریر : فاروق درویش
حوالہ مضمون : پاکستان ڈیفنس

پاک فضائیہ کے حوالے سے میرا یہ مضمون بھی پڑھیں

پاک فضائیہ کے ایف ۔ 16 فالکن اور انڈین رافیل طیاروں کا موازنہ اور حقائق

DEFENCE ARTICLES

جے ایف - 17 کے جدید ورژن بلاک 3  میں فضا سے فضا میں مار کرنے والے...
In this March , Pakistan conducted a successful flight test of the Shaheen 1-A, a medium range...

1 COMMENT

Leave a Reply

DEFENCE NEWS

DEFENCE BLOG

OUR GULF ASIA NEWS SITE

GULF ASIA NEWS

1 COMMENT

Leave a Reply