بھارتی آلہ کار ٹی ٹی پی کی دہشت گردیوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو رہا ہے

بھارت کی طرف سے دہشت گرد گروپس کو عسکری تربیت اور مالی امداد دیکر دوبارہ منظم کرنے اور دہشت گرد سرگرمیوں کے فروغ کا مذموم سلسلہ دوبارہ شروع ہو رہا ہے۔

 افغان جنگ اور وار اگیسنٹ ٹیرر میں افواج پاکستان اورعوام کی ساٹھ ہزار سے زائد جانوں کی قربانیوں کے صدقے امن قائم ہوا تھا۔ 2014ء میں کامیاب اپریشن ضرب عضب کے بعد بھارتی آلہ کار دہشت گرد وزیرستان اور دیگر علاقوں سے اپنی افغان پناہ گاہوں میں روپوش ہو گیے تھے۔
 
اس سال فروری میں لداخ سیکٹرمیں چین کے ہاتھوں ذلت آمیز شکست کے بعد بھارت کو امریکی آشیرباد حاصل ہو رہی ہے۔ جس کے بعد سرحدوں پر براہ راست جنگ کی قابلیت سے عاری اور پاکستان کی عسکری طاقت سے خوف زدہ بھارت کی طرف سے دہشت گرد گروپس کو عسکری تربیت اور مالی امداد دیکر دوبارہ منظم کرنے اور دہشت گرد سرگرمیوں کے فروغ کا مذموم سلسلہ دوبارہ شروع ہو رہا ہے۔
 
جس کے نتیجے میں مارچ سے بھارتی ایجنٹ ٹیررسٹ گروپس کی طرف سے افغان سرحدی علاقوں میں افواج پاکستان اور فوج کے وفادار عناصر پر حملوں کا سلسلہ شروع ہے۔ ماضی میں پاکستان کی سرحدوں سے لیکر شہروں بازاروں اور مساجد تک بم دھماکوں سے دہشت گردی اور تباہی پھیلانے والی دہشت گرد تنظیم تحریک طالبان پاکستان اور اس کے اتحادی گروپس اپنی پوزیشنیں مضبوط کر رہے ہیں۔
 فاٹا ریسرچ سنٹر اسلام آباد کے ڈائریکٹر منصور خان محسود کے مطابق اس ٹیررسٹ گروپ کی رسائی اور فوجی طاقت میں کافی اضافہ ہوا ہے ۔ رواں ستمبر میں فوجی دستوں پر بم دھماکوں ، سنائپر حملوں اور افواج پاکستان کے وفادار شہریوں کی ہلاکتیں بڑھی ہیں ۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق  اس مارچ سے اب تک کم از کم چالیس فوجی شہادتیں ہوئی ہیں۔ جبکہ فاٹا ریسرچ سنٹر کے مطابق جنوری سے ستمبر تک ستر سے زائد حملوں میں پاکستانی فوج اور شہریوں سمیت  120 سے زائد شہادتیں ہو چکی ہیں۔
 

واشنگٹن سے جنوبی ایشیاء کی ڈپٹی ڈائریکٹر اور محکمہ خارجہ کی سابق اہلکار الزبتھ تھرکلیلڈ کے مطابق انٹرنیشنل ٹیرسٹ گروپس میں باہمی تعاون سے ٹی ٹی پی منظم ہو کرعسکری سرگرمیوں میں تیزی لا رہی ہے جو پورے علاقے میں امن کیلئے انتہائی خطرناک علامت ہے۔

 
فروری میں افغان طالبان اور امریکہ کے مابین امن معاہدہ کے تحت امریکی فوجوں کا انخلا شروع ہوا تو طالبان نے اس بات کی ضمانت دی تھی کہ وہ دوسرے باغی گروپس کو پناہ نہیں دیں گے۔ اقوام متحدہ کی جولائی کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں چھ ہزار سے زیادہ پاکستانی جنگجو موجود ہیں۔ جن میں زیادہ تر ٹی ٹی پی سے وابستہ ہیں۔ افغان طالبان کی طرف ستے قیام امن کی کوششوںں کے نتیجے میں اگر ٹی ٹی پی جیسے گروپس اپنی افغان پناہ گاہوں سے محروم ہوئے تو وہ پاکستانی علاقوں کا رخ کریں گے۔
 
افواج پاکستان کے ترجمان کے ٹویٹر بیان کے مطابق حملوں کا مقصد افغانستان میں قیام امن کے عمل کو نقصان پہنچانا ہے اور دہشت گردی کی نئی لہرعلاقے کے رہائشیوں کیلئےعدم تحفظ اور پریشانیوں کا باعث بن رہی ہے۔ دوسری طرف ٹی ٹی پی نے علاقائی مکینوں کو امن قائم ہونے تک علاقہ چھوڑنے کا کہا ہے۔ ان ٹیررسٹ گروپس کے جاری بیانیہ کے مطابق ان کی پاکستان کیخلاف جنگ جاری اور حملے روزانہ ہوتے رہیں گے۔

بھارت اور دیگر انٹی پاکستان عناصر کی آلہ کار ٹی ٹی پی ایک بار پھر سے ان دہشت گرد کاروائیوں سے اپنی موجودگی ثابت کر رہی ہے۔  یاد رہے کہ ان کے بین الاقوامی آقا پہلے بھی ان پر شرط لگا کر بازی ہار چکے ہیں۔ لیکن بہت جلد یہ امن دشمن کارندے ماضی کا حصہ بن کر ہمیشہ کیلئے نیست و نابود ہو جائیں گے.

 
خطے کی بدلتی ہوئی صورت حال سے واقف حضرات اس حقیقت سے آشنا ہیں کہ افغان امن معاہدے سے دراصل افغان سرزمین کو اپنے مقصد کیلئے استعمال کرنے والی بھارتی ایجنسیوں اور ان کے آلہ کاروں کو شدید نقصان پہنچا ہے ۔ جس کے بعد ان دہشت گردوں کے سب سے بڑے سپورٹر بھارت نے اپنی دیرینہ بغل بچہ تنظیم ٹی ٹی پی کو دوبارہ سے منظم کرنا شروع کیا ہے۔
FAROOQ RASHID BUTThttp://thefoji.com
Chief Editor of Defence Times and Gulf Asia News, a defence analyst, journalist, patriotic blogger, poet and freelancer WordPress web designer. A passionate flag holder of world peace

DEFENCE ARTICLES

پاکستان ائر فورس میں بہت جلد شامل ہونے والا اگلا ملٹی رول فائٹر جیٹ ، پاکستان کے...
عالمی پریس اور پاک فضائیہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پاکستان خطے میں فوجی...

Comments

Leave a Reply

OUR FB PAGE

My Instagram

DEFENCE NEWS

KASHMIR NEWS

DEFENCE BLOG