بھارتی فوج نے تین کشمیری مزدور پاکستانی عسکریت پسند قرار دیکر مار ڈالے

بھارتی فوج کے بریگیڈیئر نے ان تین مقامی مزدوروں کے قتل کے بعد یہ جھوٹا دعویٰ کیا تھا کہ مرنے والے پاکستانی عسکریت پسند تھے

1
727
Indian army killed 3 citizens in fake encounter 2020
بھارتی فوج سمیت بھارتی سیکیورٹی فورسز نے جموں کشمیر کے علاقے شوپیاں میں گذشتہ ماہ جن 3 افرادکو پاکستانی عسکریت پسندی قرار دے کر  جعلی مقابلے میں شہید کردیا تھا ، ان کی شناخت اب مقبوضہ کشمیر کے ضلع راجوری کے گمشدہ مقامی مزدوروں کی حیثیت سے کی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں بھارتی میڈیا بھی  جھوٹ پر مبنی یہ خبر نشر کرتا رہا کہ بھارتی فورسز کے ساتھ مقابلہ میں مرنے والے پاکستانی عسکریت پسند تھے۔
 
بھارتی سیکورٹی فورسز کی طرف سے قتل کئے گئے تینوں مقامی افراد جن میں ایک 13 سالہ لڑکا بھی شامل ہے کی شناخت راجوری ضلع کے لاپتہ مزدوروں کے طور پر کی جا رہی ہے ۔ یہ تینوں افراد گذشتہ 21 روز سے لاپتہ تھے  اور اسی  دن سے ان کا راجوری میں اپنے گھر والوں سے رابطہ منقطع تھا ۔
مزدوری کی تلاش میں نکلے لاپتہ ہونے والے ان تینوں افراد کی شناخت ان ناموں اور رہائشی ایڈریس کے ساتھ  ہوئی ہے ۔ 1۔ امتیاز احمد ولد صابر حسین ساکری تحصیل ، کوٹرانکا ، راجوری ۔ 2۔ ابرار احمد خاں ولد باگھا خان ساکری تحصیل ، کوٹرانکنا ، راجوری ۔ 3۔ ابرار احمد گجر ولد محمد یوسف ترکاسی تحصیل ، کورانٹکا ، راجوری۔
 
مقامی کشمیری آبادی میں غم و غصے کی لہرکے بعد ، مقامی پولیس حکام کا کہنا ہے کہ وہ واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ کشمیر میں بھارتی سکیورٹی فورسز کے ” جعلی مقابلے” کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ ابھی کل ہی اتوار کے روز لاپتہ مزدوروں کے اہل خانہ نے ضلع راجوری کے پیری پولیس چوکی میں ایف آئی آر) درج کروائی تھی۔
 
یہ تینوں مقتول   15 جولائی کو کشمیر میں کام تلاش کرنے کے لئے اپنے گھروں سے نکلے تھے۔ کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن کے درمیان ، یہ تینوں افراد شوپیان ڈسٹرک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔ جہاں انہوں نے ایک کمرہ کرایہ پر لیا۔ ان کے اہل خانہ کے مطابق انہوں نے  کام کی تلاش کے دوران وہاں رہنے کیلئے کچھ ضروری سامان بھی خریدا تھا۔ مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے  ان مقتول  افراد میں سے ایک کے رشتے دار نے بتایا کہ  انہوں نے ان افراد سے 17 جولائی کے روز آخری بار  بات کی تھی ، اس کے بعد کسی سے ان کا کوئی رابطہ نہیں ہو سکا ۔
ابتدائی تحقیقات، مقامی لوگوں کی شہادتوں  اور لواحقین کے بیانات   کے مطابق مقامی شہری ثابت ہونے والے مقتول افراد کے بارے کشمیر  میں تعینات  بھارتی فوج  کل تک یہی جھوٹا بیان دہراتی رہی  کہ یہ تینوں افراد  پاکستان کے عسکریت پسند تھے اور ضلع شوپیان کے ایمشی پورہ گاؤں میں 18 جولائی کو ہونے والے ایک انکاؤنٹر میں مارے گئے ہیں۔ پولیس اطلاعات (ایف آئی آر) درج کروانے کے بعد یہ معلومات صرف  مارے جانے والے ان  مزدوروں کے لواحقین کو فراہم کی گئیں ۔
 
یاد رہے کہ اسی دن کشمیر کے   سیکٹر  12 کے کمانڈر بریگیڈیئر اجے کوٹاچ نے اس جعلی انکاؤنٹر کے بارے میں تفصیلات دیتے ہوئے ایک پریس یاد کانفرنس بھی کی ، جس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہلاک ہونے والے تینوں افراد پاکستانی عسکریت پسند اور دہشت گرد تھے۔ اس پریس کانفرنس کے کچھ  نکات  مندرجہ ذیل ہیں:
On a specific input by 62RR about presence of terrorists in village Amshipora area of District Shopian, an operation was launched by them in the said area. During search terrorists fired upon Army personnel and encounter started. Later on police and CRPF also joined. During encounter three unidentified terrorists were killed. Dead bodies of all the killed three terrorists were retrieved from the site of encounter. The identification and affiliation of the killed terrorists is being ascertained. Incriminating materials, including arms and ammunition were recovered from the site of encounter. All the recovered materials have been taken into case records for further investigation and to probe their complicity in other terror crimes. The dead bodies of the killed terrorists have been sent to Baramulla for their last rites after conducting medico-legal formalities including collection of their DNA. In case any family claims the killed terrorists to be their kith or kin, they can come forward for their identification and participation in last rites at Baramulla. Case FIR No. 42/2020 under relevant sections of law has been registered at Police Station Hirpora and investigation has been initiated into the matter.
ایک سینئر کشمیری صحافی احمد علی فیاض نے ٹویٹر پر لکھا ہے کہ “18 جولائی 2020 کو ایمشپورہ شوپیاں‘ مقابلے میں مارے گئے تینوں مشتبہ عسکریت پسندوں کو اہل خانہ کی تصویروں کی بنیاد پر بار بار راجوری کے لاپتہ مزدوروں کی شناخت کرلی گئی ہے۔ احمد علی فیاض نے لکھا کہ اگر یہ سچائی تھی تو 2010 میں ماچل میں 3 شہریوں کے قتل کے بعد یہ پہلا  جعلی انکاؤنٹر  کا واقعہ ہوگا۔

Leave a Reply