افغان طالبان کی حالیہ پیش قدمی کے ساتھ افغانستان میں بھارتی مفادات اور اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری ڈوب رہی ہے۔ تازہ ترین خبروں کے مطابق افغان نیشنل سیکیورٹی اینڈ ڈیفنس فورس (اے این ایس ڈی ایف) نے بھارت کی طرف سے فراہم کیے گئے جنگی طیاروں کو افغانستان کے صوبہ ہلمند میں ایک سول ہسپتال پر بمباری کیلیے استعمال کیا ہے ۔ افغان طالبان نے ہفتے کے روز ہسپتال پر حملے کو سنگین جنگی جرم قرار دیا ہے۔
افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ٹوئٹر پر کہا ہے کہ صوبہ ہلمند میں لشکرگاہ کے ہسپتال پر فضائی حملے کے بعد آگ لگ گئی تھی۔ افغان فورسز نے بھارت کے فراہم کردہ جنگی طیارے کو ہسپتال پر بمباری کیلیے استعمال کیے جانے کے بعد اسے جزوی طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔
افغان طالبان کے ترجمان نے یہ نہیں بتایا کہ افغانستان کی اے این ایس ڈی ایف نے بھارت کا کون سا جنگی طیارہ استعمال کیا ہے۔ لیکن یاد رہے کہ بھارت نے 2018 میں افغانستان کی اے این ایس ڈی ایف کو چار ایم آئی 24 اٹیک ہیلی کاپٹر اور تین چیتل جنگی ہیلی کاپٹر فراہم کیے تھے۔
افغانستان کے صوبہ ہلمند اور اس کے اطراف میں طالبان اور اے این ایس ڈی ایف کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے۔ طالبان صوبے کے دارالحکومت لشکرگاہ کا کنٹرول سنبھالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن انہیں اے این ایس ڈی ایف کی خصوصی فورسز کی سخت مزاحمت کا سامنا ہے۔
اگرچہ طالبان اے این ایس ڈی ایف کے خلاف ایک جنگی مہم جوئی میں ہیں ، لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ افغان طالبان نے یہ الزام لگایا کہ بھارتی حکومت کی جانب سے فراہم کردہ ایک جنگی طیارے نے ہسپتال پر بم باری کر کے جنگی جرم کیا ہے۔ جبکہ بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ اگر طالبان افغانستان کا کنٹرول چھین لیتے ہیں تو اس کی قانونی حیثیت نہیں ہوگی۔
پچھلے کچھ سالوں میں بھارت نے افغانستان میں سول اور دفاعی انفراسٹرکچر کی تعمیر کیلیے 3 بلین ڈالر سے زائد سرمایہ کاری کی ہے۔ بھارت کی طرف سے افغانستان میں موجود انٹی پاکستان دہشت گردوں کو سہولت کاری، اسلحہ اور فنڈنگ فراہم کرنے کا سلسلہ گذشتہ کئی دہائیوں سے جاری ہے۔ گو کہ بھارت نے افغانستان میں فوج بھیجنے سے گریز کیا ہے۔ لیکن ایک عرصہ سے افغان نیشنل آرمی کے فوجیوں اور انٹی پاکستان دہشت گردوں کو تربیت اور جنگی ساز و سامان کی فراہمی کررہا ہے۔
نیشنل اور انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق افغان طالبان کی حالیہ پیش قدمی کے دوران بھارت کی طرف سے افغان آرمی کو جدید اسلحہ اور گولہ بارود کی فراہمی جاری ہے۔
رپورٹ : فاروق رشید بٹ
بلوچستان میں پاک فضائیہ کے نئے بیس کے بارے یہ خبر بھی پڑھیں