امریکہ اور بھارت کی مشترکہ بحری جنگی مشقیں عالمی امن کیلئے سنگین خطرہ ہیں

کورونا کے وبائی بحران کے باعث معاشی اور اقتصادی زوال کا شکار امریکی سپر پاور اس خطے میں چین کیخلاف نئی صف بندیوں کیلئے نئے حلیف اور بھارت چین سے جان چھڑوانے کیلئے سہارے ڈھونڈ رہا ہے

1
434
usa india alliance 2020
جنوب مشرقی ایشیا اور بحیرہ چین کے ارد گرد کے خطے میں جنگی سرگرمیاں تیسری جنگ عظیم کے خطرے کی گھنٹی بجا رہی ہیں۔ چین کے ہاتھوں ذلت آمیز شکست کے بعد بھارت نے اب امریکہ کا سہارہ تلاش کیا ہے۔ چین پر دباؤ بڑھانے کیلئے امریکہ اور بھارت نے بحر ہند میں مشترکہ بحری جنگی مشقیں شروع کر دی ہیں۔ ان بحری مشقوں میں چین کا روائتی مخالف جاپان بھی شریک ہو رہا ہے۔
 
دفاعی مبصرین کے مطابق بھارت اپنے سے دو گنا طاقت ور چین کی فوجی قوت کا سامنا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ لہذا اس نے چین پر دباؤ کیلئے امریکہ اور جاپان جیسے چینی حریفوں کا سہارہ لینے کی پالیسی اپنائی ہے۔ امریکہ اور بھارت دراصل روس ، چین اور پاکستان کو یہ باور کروانا چاہتے ہیں کہ ان کے درمیان فوجی اور سٹرٹیجک تعاون بڑھ رہا ہے۔
 
بحر ہند میں جزائر انڈیمان اور نکوبار کے کھلے سمندر میں جہاں یہ مشترکہ بحری جنگی مشقیں ہو رہی ہیں ۔ تجارتی جہازوں کی آمد و رفت کا یہ مصروف ترین علاقہ چینی تجارت کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ بھارت اور چین کے درمیان دیرینہ سرحدی تنازع اور خون ریز تصادم میں بھارتی شکست کے بعد امریکہ بھارت اور جاپان اپنے حریف چین پر دباؤ ڈالنے کیلئے خطے میں قیام امن کیلئے خطرات کا باعث بن سکتے ہیں۔
 
گذشتہ ستر سالوں سے روس کی گود میں بیٹھ کر قتل امن کی سازشوں میں شریک بھارت نے لداخ میں چین سے ذلت آمیز شکست کے بعد اب چین کے سب سے بڑے حریف امریکی سپر پاور کا بغل بچہ بننا قبول کر لیا ہے۔ یاد رہے کہ ان بحری جنگی مشق میں شریک امریکی طیارہ برادار جہاز یو ایس ایس نیمیٹز دوسرے طیارہ بردار بحری جہاز رونالڈ ریگن کے ساتھ گذشتہ کئی دنوں سے بحیرہ چین میں موجود ہیں۔
 

چین ایک طویل مدت سے بحیرہ چین کے اس سمندری علاقے پر ملکیت کا دعویٰ رکھتا ہے۔ جبکہ امریکہ اور اس کے حلیف ممالک جاپان، تائیوان ، جنوبی کوریا، فلپائن اور ویت نام وغیرہ اس چینی دعوے کو تسلیم نہیں کرتے ہیں۔

 
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی چین سے ذلت آمیز شکستوں اور بیس سے زیادہ فوجی ہلاکتوں پر بھارتی اپوزیشن، عوام اور مڈیا کی طرف سے سخت تنقید کی زد میں تھے۔ مودی سرکار کیخلاف کڑی کمپین چلانے والا بھارتی میڈیا اب چین کیخلاف بھارتی فوجی طاقت کی نام نہاد برتری کے قصیدے پڑھ رہا ہے۔
 
کل تک چین کے ہاتھوں کراری شکستوں پر نوحے پڑھنے والا بھارتی میڈیا امریکہ کے بھارتی حمایت میں نکلنے پر اب بھارتی فوجی طاقت کے بلند بانگ دعوے کر رہا ہے۔ بھارتی میڈیا کی طرف سے چین کی بحری ناکہ بندی کرنے اور سبق سکھانے کے دعووں میں کتنی سچائی ہے۔ اس کے بارے عالمی فوجی مبصرین اسے امریکہ کی شہہ پر اکڑنا قرار دے رہے ہیں۔
 
 دفاعی مبصرین بھارت کے امریکی بغل بچہ بننے کو مستقبل میں اس کی تباہی اور بربادی کا پیش خیمہ قرار دے رہے ہیں۔ کورونا کے وبائی بحران کے باعث معاشی اور اقتصادی زوال کا شکار کورونا زدہ امریکی سپر پاور اس خطے میں چین کیخلاف نئی صف بندیوں کیلئے نئے حلیف اور بھارت چین سے جان چھڑوانے کیلئے سہارے ڈھونڈ رہا ہے۔ لیکن بھارت ان تاریخی حقائق سے کوئی سبق نہیں سیکھ رہا کہ امریکہ نے پاکستان کو بیس سال روس اور دہشت گردی کیخلاف جنگ میں استعمال کرنے کے بعد اچانک منہ پھیر لیا تھا۔
 
عالمی مبصرین کے مطابق بھارت کا چین کیخلاف امریکہ پر انحصار کرنے کا فیصلہ اس کی سلامتی کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ امریکہ کا حلیف بن کر چین سے ذلت آمیز شکستوں کا انتقام لینے کے بھارتی خوابوں کو امریکہ کی طرف سے کسی بھی وقت مونہ پھیر لینے کی صورت میں چکنا چور ہونے کا ہمشہ خطرہ موجود رہے گا۔

Leave a Reply