Sunday, October 24, 2021

پاک فضائیہ کے پاکستان میراج ری بلڈ فیکٹری میں اپ گریڈڈ میراج لڑاکا طیارے

جی ہاں ! 27 فروری 2019 کو اپریشن سوئفٹ ریٹارٹ میں بھارتی فضائیہ کے دو طیارے مار گرانے والی پاکستانی فضائی فارمیشن میں جے ایف ۔ 17 اور ایف ۔ 16 کا ساتھ دینے کیلئے چار میراج ۔ 5 طیارے بھی شامل تھے

پاک فضائیہ کا ملٹی رول فائٹر جیٹ میراج 3 اور 5 ورژن پچاس سال پرانا ہونے کے باعث کم اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے۔ لیکن پاکستانی انجینئرز کی صلاحیتوں کی بدولت پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس کی میراج ری بلڈ فیکٹری میں اپ گریڈنگ کے بعد یہ طیارے آج بھی فضائی معرکوں میں اہم رول ادا کرنے کے اہل ہیں۔ اور یہ پاک فضائیہ کے ہوابازوں کی پیشہ ورانہ مہارت کا کمال ہے کہ وہ ایف 16، جے ایف 17 تھنڈر اور میراج سے بھی بھارتی رافیل مار گرانے کا ہنر اور صلاحیت رکھتے ہیں۔

دفاعی ماہرین کے مطابق ” انتہائی پھرتیلا طیارہ ” قرار دیا جانا والے میراج 3 ، 4 اور 5 طیارے دشمن کے علاقے میں راڈار پر نظر آئے بغیر اندر دور تک گھس کر بمباری اور تباہ کن میزائیل حملوں کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

سنہ 1968-69ء میں پی اے ایف میں شامل ہونے والے یہ میراج طیارے 80ء کی دہائی میں پاک فضائیہ میں شامل ہونے والے اس دور کے جدید ترین طیاروں ایف 16 فالکن اور پھر پاکستان کے اپنے تیار کردہ جے ایف ۔ 17 تھنڈر جیسے جدید طیاروں کی موجودگی میں کم اہمیت اثاثہ سمجھا جانے لگے ہیں۔ لیکن فضائی ماہرین کے مطابق میراج طیارے کئی اہم خصوصیات کی وجہ آج بھی پاک فضائیہ کی سٹرائیک پاور کا اہم حصہ ہیں۔
 
ان کی اہمیت اور کارکردگی کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ 27 فروری 2019 کو اپریشن سوئفٹ ریٹارٹ میں بھارتی فضائیہ کے دو جنگی طیارے مار گرانے والی پاکستانی فضائی فارمیشن میں جے ایف ۔ 17 تھنڈر اور ایف ۔ 16 فالکن کا ساتھ دینے کیلئے چار میراج طیارے بھی شامل تھے۔ اور دنیا نے دیکھا یہ میراج طیاروں بھارت کے اندر دفاعی تنصیبات پر کامیاب بمباری کر کے بحافظت واپس لوٹ آئے
 

پاک فضائیہ میں ان کی اہمیت کی پہلی وجہ ملکی مالی وسائل کی کمی کے باعث نئے متبادل طیارے خریدنے میں مشکلات ہیں ۔ لہذا پاکستان نے میراج ری بلڈ فیکٹری میں ان طیاروں کی کئی اپ گریڈنگ سے انہیں اپنی دفاعی ضروریات کے قابل بنائے رکھا گیا ہے

 
یہ میراج طیارے پاکستان ائر فورس کیلئے کی سٹینڈ آف ویپن یعنی ساٹھ سے ایک سو بیس رینج تک مار کرنے والے ایچ ۔ 2 اور ایچ ۔ 4 گلائڈ بموں، 350 سے 550 کلومیٹرز تک مار کرنے والے رعد 1 اور رعد 2 ائر ٹو گراؤنڈ اٹیک کروز میزائیل داغنے کیلئے بہترین ڈیلیوری پلیٹ فارم سمجھے جاتے ہیں۔
 
پاک فضائیہ کے ان میراج طیاروں کی ایک خاص قابلیت ان کی بحری جہاز شکن اے ایم ۔ 39 ایگزوسٹ میزائل چلانے کی صلاحیت ہے۔ خیال رہے کہ میراج ۔ 5 پی ۔ اے 3 کے علاوہ رعد کروز میزائیل اور ایگزوسٹ میزائیل چلانے کی صلاحیت جے ایف ۔ 17 تھنڈر میں بھی ہے۔ انٹی شپ میزائیل لانچنگ صلاحیت کی بدولت ان میراج طیاروں کے سکواڈرن پاک بحریہ کی سپورٹ اور سمندری حدود کی حفاظت کیلئے مسرور ائر بیس کراچی پر ٹیکٹیکل ونگ 32 میں تعینات ہیں

بنیادی تفصیلات

لمبائی : 49،29 فٹ یعنی 15.03 میٹر
پنکھ یا پر : 26،96 فٹ یعنی 8.22 میٹر
اونچائی : 14،75 فٹ یعنی 4.50 میٹر
خالی طیارہ وزن : 15.540 پاؤنڈ یعنی 7،050 کلو
عمومی ٹیک آف 21.165 پاؤنڈ یعنی 9،600 کلو
زیادہ سے زیادہ ٹیک آف 30،205 پونڈ یعنی 13،700 کلو
ایندھن کی صلاحیت داخلی : 880 گیل یعنی 3،340 لیٹر 
میکسم پے لوڈ : 8220 پاؤنڈ یعنی 4،000 کلو
زیادہ سے زیادہ کی رفتار : 1،460 میل فی گھنٹہ یعنی 2،350 کلومیٹر فی گھنٹہ
کلائمبنگ ریٹ : 16.400 فٹ یعنی 5،000 میٹر فی منٹ
سروس سیلنگ یعنی زیادہ سے زیادہ بلندی 55.755 فیٹ

ہتھیار

ڈی ای ایف اے 30 ملی میٹر کی دو مین گنیں 125 آر ڈی ای اے
میزائلوں اور ہتھیاروں کیلئے اسٹیشنوں میں پانچ بیرونی ہارڈپوائنٹ
ایئر ٹو ایئر میزائل : اے آئی ایم 9 سائیڈونڈر ، مترا آر.530 ، مترا 550 میجک
ایئر ٹو سرفیس میزائل : اے ایس ۔ 30 ، اے ایس ۔ 37
بم لوڈ : 250 سے 400 کلو گرام
دیگر راکٹ اور پوڈ ، ای سی ایم پوڈ

اپ گریڈ روز ورژن کی تفصیل ۔

روز 2
ایچ یو ڈی، نیا ہیڈ اپ ڈسپلے سسٹم ۔ نئے ” تھروٹل اور اسٹک پر ہاتھ” کنٹرولز۔
نیا ملٹی فنکشن ڈسپلے ( ایم ایف ڈی ) ۔ ڈیرپلی اسکرین پر نئے نیویگیشن سسٹم بشمول ایک اٹیک نیویگیشن سسٹم ،ایک نیویگیشن ہیلپ ہے جو کمپیوٹر ، موشن سینسر (ایکسلروومیٹر) اور گردش سینسر (گائروسکوپس) کے استعمال سے پوزیشن ، مقام کی سمت کی مسلسل انفارمیشن ۔
دشمن کے حملہ آور میزائیل کی انفارمیشن کیلئے نیا راڈار وارننگ دینے والا الیکٹرانک کاؤنٹر سسٹم ، آر ڈبلیو آر ، ای سی ایم ، ایف آئی آر گریفو ایم 3 ریڈار
بی وی ار یعنی بصری حدود سے ورا سسٹم صلاحیت 
لوڈ آف میزائیل : 70 سے 180 کلومیٹرز کیلئے اے ایم 3 سائیڈ وائنڈر اور اے آئی ایم 9 ایل ، رعد 1 ، رعد 2 کروز میزائیل لوڈ کی صلاحیت
کم سطح بلندی سے ائر اینڈ گراؤنڈ سٹرائیک کی اہلیت میں اضافہ
سیجیم آیف ایل آئی آر فارورڈ سسٹم – لیکنگ انفرا ریڈ  سسٹم 
روز 2 ورژن میں اندھیرے میں کاروائی اور ریڈار سے بچنے کیلئے انتہائی کم بلندی پر محفوظ پرواز کی صلاحیت ہے۔

روز 3 اپ گریڈ

 ایویونکس نیویگیشن سسٹم میں بہتری کیلئے جدید تر اپ گریڈنگ اور نیا سویٹ ایس اے جی ای ایم سسٹم 
میراج 5 روز3 کے طیاروں میں رات کے اندھیرے میں سٹرائیک مشن کیلئے روز 2 سے جدید تر اپ گریڈڈ سسٹم نصب ہیں۔

ان میراج طیاروں کی تمام تر شاندار صلاحیتوں کے باوجود پاک فضائیہ کو جدید سے جدید تر بنانے کے رواں عمل کو آگے بڑھانے کیلئے ان کی جگہ پاکستان کے اپنے تیار کردہ جے ایف ۔ 17 تھنڈر طیارے لیں گے

تحریر : فاروق رشید بٹ

DEFENCE ARTICLES

جے ایف - 17 کے جدید ورژن بلاک 3  میں فضا سے فضا میں مار کرنے والے...
In this March , Pakistan conducted a successful flight test of the Shaheen 1-A, a medium range...

Leave a Reply

DEFENCE NEWS

DEFENCE BLOG

OUR GULF ASIA NEWS SITE

GULF ASIA NEWS

Leave a Reply