آذربائیجان آرمینیا جنگ اور عالمی دہشت گرد بھارت کا انٹی پاکستان پراپیگنڈا

پاکستان ایک غاصب ملک آرمینیا کیخلاف آذربائیجان کی حق دفاع کی سفارتی اور اخلاقی حمایت کرتا ہے۔ جبکہ کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کرنے والا بھارت نگورنو کاراباخ پر غاصبانہ قبضہ کرنے والے آرمینیا کا حامی ہے ۔۔۔۔

بھارتی نیوز میڈیا پر یہ من گھڑت خبریں پھیلائی جا رہی ہیں کہ ترکی کے حلیف شامی اور عراقی جنگجو اور پاکستانی فوجی دستے آذربائیجان کے ساتھ آرمینیا کیخلاف جنگ میں شامل ہیں۔ ریاستی دہشت گردی سے کشمیری مسلمانوں کا قتل عام اور نسل کشی کرنے والا بھارت امریکہ اور اسرائیل کے ایما پر ترکی پر آرمینائی نسل کشی کے الزامات بھی لگا رہا ہے۔
 

بھارتی زی نیوز پر یہ مضحکہ خیز دعوی کیا جا رہا ہے کہ فری نیوز ڈاٹ اے ایم کے مطابق مقامی لوگوں کو آذربائیجانی علاقوں میں پاکستانی فوج کی موجودگی کے بارے گفتگو کرتے ہوئے سنا گیا ہے۔

 
بھارتی نیوز چینل یہ پروپیگنڈا کر رہے ہیں کہ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو ارمینیا کو تسلیم نہیں کرتا اور پاکستان کی طرف سے آذربائیجان کی حمایت کے پیچھے پاکستان کے آذربائیجان اور ترکی کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں ۔ زی نیوز کے مطابق پاکستان کشمیر کے مسئلے میں بھارت کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے والے ترکی کا ساتھی بن کر آذربائیجان کی حمایت کر رہا ہے۔
.
.
جبکہ پاکستان کا موقف ہے کہ وہ امن پسند ریاستوں کیخلاف جارحیت کرنے والے ہر غاصب ملک کی اصولی مخالفت کرتا ہے۔ اور اسی اصول کی بنا پر پاکستان آج آذربائیجان کی برادر قوم کے ساتھ کھڑا ہے اور آذربائیجان کے دفاع کے حق کی حمایت کرتا ہے۔ پاکستان ناگورنو کاراباخ کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متفقہ قراردادوں کے مطابق آذربائیجان کا حصہ سمجھتا ہے۔ لیکن کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کرنے والا غاصب بھارت اپنی ہی طرح نوگورنا کاراباخ پر قبضہ کرنے والے غاصب آرمینیا کی حمایت کر رہا ہے۔
 
بھارتی میڈیا اسرائیل کی تقلید میں کہتا ہے کہ پاکستان اور ترکی پہلی جنگ عظیم میں آرمینیائی قتل عام کو تسلیم نہیں کرتے ہیں۔ بھارت اور یہودی لابیوں کے مطابق پہلی عالمی جنگ میں عثمانیوں یا موجودہ ترکی نے 15 لاکھ نسلی آرمینی باشندوں کو ہلاک کیا تھا۔ جبکہ حقائق یہ ہیں کہ کشمیر میں سفاکانہ قتل عام کیخلاف آواز اٹھانے والا ترکی اس یہودی پروپیگنڈا کی تردید کرتا ہے۔ لیکن کشمیری مسلمانوں کے قتل عام اور بھارتی ریاستی دہشت گردی پر خاموش رہنے والے اسرائیل ، امریکہ اور بھارت اسے تسلیم کرتے ہیں۔
 
بھارتی میڈیا ترکی کیخلاف الزامات عائد کر رہا ہے کہ ترکی ارمینیا کیخلاف جنگ کیلئے شام اور لیبیا سے دہشت گردوں کو آذربائیجان بھیج رہا ہے۔ ترکی ائرفورس کے ایف 16 طیارے آذربائیجان کے جنگی اڈوں سے پرواز کر رہے ہیں ۔ اور ترکی آذر بائیجان کو جدید اسلحہ اور ڈرون طیارے بھی فراہم کررہا ہے۔

عالمی برادری ان حقائق سے واقف ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی مخالفت میں کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کے بعد نہتے عوام کا وحشیانہ قتل عام کرنے والا بھارت ریاستی دہشت گردی کا مرتکب رہا ہے۔

 
عالمی مبصرین گواہی دیتے ہیں کہ کشمیر میں ماورائے عدالت قتل اور شہریوں پر پیلٹ گنوں سے حملے ہو رہے ہیں۔ گلی کوچوں میں بچیوں اورعورتوں کی عزتیں لوٹی جاتی ہیں مگر اس بھارتی درندگی پر امریکہ اور اسرائیل جیسے بھارتی اتحادی خاموش تماشائی ہیں۔
.
.
پاکستان پر آذربائیجان کی حمایت میں آرمینیا کیخلاف مداخلت کا الزام لگانے والا بھارت ان مصدقہ حقائق سے کیسے انکار کر سکتا ہے۔ کہ بلوچستان میں بلوچ باغیوں سے بھارتی اسلحہ اور را کی سپورٹ کے ثبوت برامد ہوتے ہیں۔ عالمی برادری واقف ہے کہ افغان بارڈر اور اندرون پاکستان بازاروں سے لیکر مساجد اور سکولوں تک بم دھماکے اور خود کش حملے کرنے والے بھارتی تربیت یافتہ دہشت گردوں کو تمام تر بھارتی سرپرستی حاصل رہی ہے۔
 
ماضی میں اسرائیلی جنگی طیاروں کے ذریعے اپنے گجرات اور سرینگر ائربیس سے پاکستانی ایٹمی تنصیبات پر حملوں کی ناکام سازشیں کرنے والے بھارت کی پاکستان سے ازلی دشمنی کیلئے اسرائیل کے ساتھ گٹھ جوڑ کی کہانی دنیا پر عیاں ہے۔ وار اگینسٹ ٹیرر میں افواج پاکستان کے ہاتھوں مرنے والے مسلمان طالبان کے بھیس میں بغیر ختنوں کے ہندو دہشت گردوں کی چشن کشا اصلیت دراصل بھارت کو عالمی دہشت گردی کا خطرناک ترین سرپرست ثابت کرنے کیلئے ناقابل تردید ثبوت ہے۔
 
پاکستان ایک غاصب ملک آرمینیا کیخلاف آذربائیجان کی حق دفاع کی سفارتی اور اخلاقی حمایت کرتا ہے۔ جبکہ کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کرنے والا بھارت نکورناکاراباخ پر غاصبانہ قبضہ کرنے والے آرمینیا کا حامی ہے ۔۔۔۔

کیونکہ ہم جنس با ہم جنس پرواز ۔ کبوتر با کبوتر باز با باز

تحریر : فاروق درویش

DEFENCE ARTICLES

جے ایف - 17 کے جدید ورژن بلاک 3  میں فضا سے فضا میں مار کرنے والے...
In this March , Pakistan conducted a successful flight test of the Shaheen 1-A, a medium range...

Leave a Reply

DEFENCE NEWS

OUR INSTAGRAM

DEFENCE BLOG

OUR GULF ASIA NEWS SITE

GULF ASIA NEWS

Leave a Reply