افواج پاکستان بھارتی جارحیت کا مونہ توڑ جواب دیں گی ۔ آئی ایس پی آر

افواج ہاکستان اور دفاعی مبصرین کے مطابق بھارت کشمیر سیکٹر میں پاکستان کے خلاف ایک فالس فلیگ آپریشن کی سازش کر رہا ہے

0
464
Pakistan forces are always ready for Indian threat
 ملکی اور بین الاقوامی حلقے ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار کے اس بیان کو بڑی سنجیدگی سے لے رہے ہیں، جس میں ان کی طرف سے بھارت کو کسی کارروائی کی صورت میں بھرپور جواب دینے کا کہا گیا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ یہ بیان پاک بھارت کشیدگی کی عیاں عکاسی کرتا ہے۔
 
واضح رہے جنرل بابر افتخار نے ایک مقامی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت پاکستان کے خلاف ایک فالس فلیگ آپریشن کی سازش کر رہا ہے اور یہ کہ اگر بھارت نے کوئی مہم جوئی کی تو پاکستان بھرپور طاقت کے ساتھ جواب دے گا اور اس کے نتائج کسی کے کنٹرول میں نہیں ہوں گے۔ یاد رہے کہ حال ہی میں وزیر اعظم پاکستان عمران خان بھی بھارتی جارحیت کے خطرات کا ذکر کرچکے ہیں۔
 
 دفاعی تجزیہ نگار جنرل غلام مصطفے کے مطابق بھارت کی طرف سے آرٹلری کی موومنٹ غیر معمولی اشارات کی حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ، ”کشمیر میں ایک طرف بھارت ایک نئی قیادت پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور دوسری طرف چین کے ساتھ کشیدگی کی وجہ سے بھی مودی حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ ایسے میں پاکستان کو لگتا ہے کہ نئی دہلی اور انتہا پسند مودی حکومت کوئی بھی مہم جوئی کر سکتی ہے۔ ان کی طرف سے آرٹلری کی موومنٹ یہ ظاہر کرتی ہے کہ ان کے ارادے ٹھیک نہیں ہیں “۔
 
ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان نے اپنے طور پر کچھ ریڈ لائنز کا تعین کیا ہے،”اگر وہ سرجیکل اسٹرائیک کرتے ہیں یا آزاد کشمیر( پاکستان کے زیر انتظام کشمیر) میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں، تو یہ ریڈ لائنز کو کراس کرنے کے مترادف ہوگا اور ایسا لگتا ہے کہ بھارت ان ریڈ لائنز کو کراس کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اگر آپ ان کے میڈیا کو دیکھیں اور ان کے صحافیوں کی ٹحاریر  پڑھیں تو آپ کو ایسی سرگرمیوں کے بارے واضع طور پر بہت کچھ نظر آئے گا۔
 
پاکستان کے کئی حلقوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ اسلام آباد کے لیے کانگریس کی حکومت پھر بھی کچھ بہتر رہی ہے، جس میں کئی عناصر خطے میں امن کے خواہاں ہیں۔ لیکن مودی سرکار کی بی جے پی اور اس کی نظریاتی تنظیم آر ایس ایس خطے میں امن نہیں چاہتے اور ان کا رویہ پاکستان کی طرف انتہائی مخاصمانہ ہے۔
 
بھارتی فوج نے ابھی حال ہی میں کشمیریوں کے خلاف ایک تازہ کارروائی کا آغاز کیا ہوا ہے۔ اس دوران کشمیر کے بیس دیہاتوں کا محاصرہ کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے بھارت کا عیارانہ الزام ہے کہ پاکستانی حکومت کشمیر میں بھارت مخالف شدت پسندوں کی مدد کر رہی ہے۔
اس حوالے سے کراچی یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کی سابق سربراہ ڈاکٹر طلعت اے وزارت نے کہا ہے کہ نریندر مودی کا بھارت خطے کے تمام ممالک سے لڑنے کیلیے بہانے ڈھونڈ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ، ”یہ صرف پاکستان کا ہی مسئلہ نہیں ہے، بھارت کے نیپال اور چین کے ساتھ بھی تعلقات انتہائی کشیدہ چل رہے ہیں۔ بھارت کے اندرونی طور پر بھی بہت سے مسائل درپیش ہیں، اور ایسی صورت حال میں اگر وہ پاکستان کے خلاف کوئی بھی مہم جوئی کرے گا تو اس کے انتہائی خطرناک نتائج بر آمد ہوں گے”۔
۔۔۔۔۔۔۔
یاد رہے کہ جہاں گذشتہ دنوں چین کے فوجی دستے لداخ سیکٹر میں بھارت کے کئی میل اندر داخل ہو چکے ہیں، لیکن بھارت تا حال چین کی مظبوط فوجی طاقت کے مقابل کوئی جوابی کاروائی کرنے سے گریزاں ہے۔ جبکہ دوسری طرف مظلوم اور کمزور کشمیروں مسلمانوں کیخلاف کاروائیاں بھارتی فوج کا معمول ہے۔
۔۔۔۔۔
دفاعی مبصرین کے مطابق گو کہ پاکستانی فوج اپنی قوم کے شانہ بشانہ کورونا وائرس بحران کیخلاف نبرد آزما ہے لیکن وہ بھارت کی کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کیلئے ہمہ وقت تیار ہے

Leave a Reply