لداخ میں کوہ کیلاش اور پینگونگ پر بھارتی قبضوں کی فوٹو شاپ جعلسازیاں بے نقاب

عالمی نیوز ایجنسی کی تحقیقات کے مطابق کوہ کیلاش پر بھارتی قبضہ کے دعوے اور فوٹو شاپڈ تصاویر مکمل فیک اور جعلی ہیں۔ جبکہ بھارتی میڈیا کی اکثر من گھڑت خبروں کی اشاعت جعلسازی پر مبنی ہوتی ہے

0
490
Chinese forces in eastern Ladakh sector
گذشتہ ہفتے سے بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا کمیونیٹی یہ بوگس دعوی کر رہے ہیں کہ بھارت نے چینی فوج کو پیچھے ہٹا کر کوہ کیلاش پر قبضہ کر لیا ہے۔ اس حوالے سے جب بھارتی میڈیا بڑے زور شور سے یہ خبریں شائع کر رہا تھا تو بھارتی عوام ٹویٹر اور فیس بک پر اپنی انڈین آرمی کے قصیدے لکھ رہے تھے۔
 
لیکن کل جب بی بی سی نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں اس جھوٹے دعوی کی جعلسازی بینقاب کرتے ہوئے اس جعلسازی کو مصدقہ طور پر فوٹو شاپڈ بوگس تصاویر قرار دے دیا۔ لیکن عالمی پریس کی طرف سے بھارتی دعووں کا بھانڈا پھوٹنے کے باوجود بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا صارفین حسب عادت من گھڑت خبریں شائع کرنے میں مصروف ہیں
 

بی بی سی ہندی کی فیکٹ چیک تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ کوہ کیلاش کی بتائی جانے والی تصاویر مکمل طور پر جعلی اور فرضی ہیں اور انڈین فوجیوں نے ماؤنٹ کیلاش پر کوئی قبضہ نہیں کیا ہے۔

بھارتی میڈیا کی فوٹو شاپ جعلسازی کے بارے بی بی سی کی تحقیقاتی رپورٹ کا لنک
۔ 
یاد رہے کہ لداخ سیکٹر میں ہلمٹ ٹاپ ، بلیک ٹاپ اور فنگر فور پر بھارتی قبضوں کے دعوے بھی خود ساختہ کہانیاں اور بوگس نیوز ثابت ہوئے ہیں۔ جبکہ جھیل پینگونگ تسو پر بھارتی قبضے کے دعووں کے جواب میں چینی میڈیا اور فوجی ذرائع کی طرف سے مصدقہ فوٹوگرافس اور دیگر ثبوت پبلش کئے جانے کے بعد بھارتی ذرائع ابھی تک انتہائی ڈھٹائی سے فیک نیوز اور فوٹو شاپڈ جعلسازی پبلش کر رہے ہیں۔
جبکہ اصل صورت حال یہ ہے کہ خود بھارت کے مین اخبار ہندوستان ٹائمز کی ایک سینیئر صحافی ہریندر باویجہ صاحبہ یہ حقائق لکھ چکی ہیں کہ چینی فوج کی طرف سے بھارتی علاقوں پر قبضوں کا سلسلہ صرف لداخ سیکٹر تک محدود نہیں ہے۔ بلکہ چینی دستے اسام اروناچل پردیش اور اتر اکھنڈ کے علاقوں میں بھی کئی مقامات پر بھارتی سرحدوں کے چالیس کلومیٹرز اندر تک دیکھے گئے ہیں۔ تاہم ہندوستان ٹائمز کے مطابق بھارتی علاقوں میں داخل ہونے والے چینی دستے مابعد واپس چلے جاتے رہے ہیں۔
 

عالمی مبصرین نے ہندوستان ٹائمز کے اس انکشاف پر بھارتی فوجوں کی دفاعی نا اہلی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ دفاعی مبصرین کے مطابق چینی فوجوں کا بھارتی کنٹرول والے علاقوں میں چالیس کلومیٹز اندر آ کر بحافظت واپس چلے جانا بھارتی فوج کی نا اہلی کا واضع ثبوت ہے۔

 
گذشتہ ہفتوں میں لداخ سیکٹر میں بھارتی فوج کی اپنے علاقوں کا قبضہ چھڑوانے اور چین کی نئی قلعہ بندیاں روکنے میں ناکامی بھی عالمی سطح پر کڑی تنقید کا نشانہ بنی ہیں۔ یاد رہے کہ چین نے پینگونگ تسو ، ہلمیٹ ٹاپ اور بلیک ٹاپ کی جن اہم چوٹیوں پر قبضہ کیا تھا۔ وہاں سے بھارتی چشول گیریژن تک فوجی نقل و حمل اور فوجی تنصیبات پر نظر رکھنا ممکن ہے۔ چینی میڈیا نے پینگونگ تسوجھیل پر اپنے قبضہ کے ثبوت میں تازہ ترین تصاور بھی شائع کی ہیں۔
Chinese army boats in Pangong Tso 2020
چینی آرمی کی جنگی کشتیاں جھیل پینگونگ تسو پر قبضہ کے بعد معمول کا گشت کرتے ہوئے
China PLA Border Guard Patrol Boats in PangongTso 12km across Indian claimed LAC
جھیل پینگونگ تسو پر قبضہ کے بعد چینی فوجیوں کا فاتحانہ انداز جھیل پر قبضہ کے بھارتی دعووں کے جھوٹا ہونے کا ثبوت ہے

جبکہ بھارت کی طرف سے من گھڑت خبروں کے ساتھ پبلش کی گئیں تصاویر یا تو اڈوب فوٹو شاپ پر بنائی گئیں بوگس فوٹوگرافس  ہیں یا پھر پینگونگ تسو جھیل پر گذشتہ برسوں میں بھارتی قبضے کے دور کی پرانی تصاویر ہیں۔
Indian army in Pangong Tso of Ladakh sector in 2018
پینگونگ تسو جھیل پر بھارتی قبضہ کی جعلی خبر کے ساتھ شئیر کی جانے والی یہ تصویر دراصل ستمبر 2019 کو پبلش ہونے والے ایک ویب آرٹیکل کی تصویر ہے

Leave a Reply