اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مسئلہ کشمیر پر صدر اردوغان کی آواز گونج اٹھی

صدر اردوغان نے اسرائیل میں سفارت خانہ کھولنے کا ارادہ رکھنے والے ممالک کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقوام متحدہ کی تجاویز اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

ترکی کے صدر طیب اردوغان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی کے جبر و استحصال کا شکار کشمیری مسلمانوں کے حق میں بھرپور آواز اٹھائی ہے۔
 

صدر اردوغان نے عالمی برادری میں مسئلہ کشمیر بھرپور انداز میں اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ” کشمیر کا مسئلہ جنوبی ایشیا میں امن اور استحکام کیلیے بہت اہم ہے۔ یہ اب بھی ایک سلگتا ہوا مسئلہ ہے۔ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم ہونے کے بعد سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے “۔

 
صدر اردوغان کے اس جرات مندانہ بیان پر پاکستانی عوام اور بھارتی ظلم و جبر کا شکار مقبوضہ کشمیر کے مظلوم مسلمانوں نے اظہار تشکر جبکہ بھارتی ترجمان نے سخت اعتراض کیا ہے۔ اقوام متحدہ میں بھارتی نمائندے ٹی ایس تری مورتی نے کہا ہے کہ مرکز کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے بارے میں صدر اردوغان کا تبصرہ بھارت کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہے اور یہ بھارت کیلیے مکمل طور پر ناقابلِ قبول ہے۔ ترکی کو کسی دوسرے ملک کی خودمختاری کا احترام کرنا سیکھنا چاہیے ۔
یاد رہے کہ بھارت نے گذشتہ سال پانچ اگست کو جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی تھی اور پوری ریاست کو دو مرکزی علاقوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ جس پر کشمیر سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں نے احتجاج کرتے ہوئے شدید اعتراضات اٹھائے تھے۔ جبکہ پاکستان ، ترکی ، چین اور ملائشیا سمیت کئی ممالک نے بھارتی ترمیم کے حوالے سے سخت رد عمل یا ناپسندیدگی کا اظہار کیا تھا
 
گذشتہ دنوں ترک وزارت خارجہ کے ترجمان نے بھی بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی اقدامات پر کھلے الفاظ میں تنقید کی تھی۔ اُس وقت بھی بھارتی ترجمان نے انہیں بھارت کے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیا تھا۔ جبکہ عالمی برادری دیکھ رہی ہے کہ بھارت کی ریاستی دہشت گردی کا نشانہ بننے والے نہتے کشمیری مسلمانوں کو اپنی آزادی کی جدوجہد میں بھارتی فوج اور سیکورٹی فورسز کی طرف سے انتہائی سفاکانہ مظالم کا سامنا ہے۔
 
اس سال فروری میں صدر اردوغان نے پاکستان کے دورے کے دوران پاکستانی پارلیمنٹ سے خطاب کے دوران بڑے واضع الفاظ میں یہ کہا تھا کہ مسئلہ کشمیر ترکی کے عوام کیلیے اُتنا ہی اہم ہے جتنا یہ پاکستانیوں کیلئے ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں کہا کہ ” ہم مذاکرات اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی توقعات کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کرنے کے حق میں ہیں “۔
.

صدر اردوغان نے اسرائیل میں سفارت خانہ کھولنے کا ارادہ رکھنے والے ممالک کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقوام متحدہ کی تجاویز اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ اور اس سے فلسطینی مسلمانوں کے مسائل مزید پیچیدہ ہو جائیں گے۔

 
صدر اردوغان نے گذشتہ سال بھی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں دو ٹوک الفاظ میں کہا تھا کہ جنوبی ایشیا میں امن و استحکام اور خوشحالی کو مسئلہ کشمیر سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔

DEFENCE ARTICLES

مصدقہ دفاعی ذرائع کے مطابق پاکستان نے اپنے فضائی حدود اور بحیرہ عرب کے سمندری فضائی حدود...
بی جے پی راہنما راجیشور سنگھ کا کہنا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے مطابق 2021 تک...

1 COMMENT

Leave a Reply

DEFENCE NEWS

OUR INSTAGRAM

DEFENCE BLOG

OUR GULF ASIA NEWS SITE

GULF ASIA NEWS

1 COMMENT

Leave a Reply