Sunday, October 24, 2021

ترکی کے تباہ کن ڈرون ‘ ٹی بی ۔ 2 اور پاک ترک دوستی بے مثال ہیں

ترک ساختہ ڈرون اور کم بلندی والے میزائل بھارت کے روسی ساختہ اسلحہ و تنصیبات کیلئے موت کا پیغام ہوں گے۔ ترک ڈرون سے ایسے ہی تباہ کن خطرات شام اور عراق میں موجود بشار الاسد کی حامی ایرانی فوج کو بھی ہیں

دنیا کے جدید اسلحہ ساز حیرت زدہ تھے کہ آذربائیجان کے ڈرون حملوں نے آرمینی دفاع کو مکمل کر کے اسے شکست تسلیم کرنے پر مجبور کر دیا۔ اس جنگ میں اصل گیم چینجر ترک ساختہ ڈرون تھے جنہوں نے آذربایجان کو چھ ہفتوں کی جنگ میں فیصلہ کن فتح میں اہم کردار ادا کیا ۔ بھارتی دفاعی قیادت خوف زدہ ہے کہ مسئلہ کشمیر سے جنگ کی آگ بھڑک اٹھی تو ترکی اور چینی ساختہ ڈرون سسٹم پاکستان کیلئے بھی ایسا ہی کردار ادا کر سکتا ہے۔

آذربائیجان جنگ کی ڈرون اٹیک ویڈیوز سے دنیا حیران ہے کہ ترکی ساختہ بائریکٹر ٹی بی 2 ڈرون کس طرح انتہائی کامیابی سے نشانہ لگاتے اور دفاعی تنصیبات کو تباہ کرتے رہے۔ اور آناً فاناً آرمینیا کی گیم ختم ہو گئی۔

آذربائیجان نے ارمینیا کے تقریباً  185 ٹی-72 ٹینک ،  90 بکتر بند گاڑیاں ، 190 توپیں ، 75 ملٹی پل راکٹ لانچر یونٹ، 30 زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سسٹم ، ایک ٹور سسٹم ۔ 5 ایس 300 میزائیل سسٹم ، 14 راڈار ، ایک ایس یو 25 طیارہ ، چار ڈرون اور 5 سو سے زائد گاڑیاں تباہ کیں۔ اس جنگ میں  ڈھائی ہزار آرمینی فوجی ہلاک اور 5 ہزار سے زائد زخمی ہوئے۔ جبکہ دوسری طرف آرمینیا کے مقابلے میں آذربائیجان کا نقصان اس سے چھ گنا کم تھا۔

آذربائیجان جنگ نے ماڈرن جنگی حکمت عملی کو نیے آیڈیاز دیے ہیں۔ فضائیہ اور مہنگے جنگی طیاروں کو جنگ میں شامل کیے بغیر کم لاگت ڈرون طیاروں کے استعمال سے مقاصد حاصل کرنا دنیا کے دفاعی تھنک ٹینکس کیلئے ایک نیا باب ہے۔ افغانستان میں امریکی پریڈیٹر ڈرون کی کامیابیوں نے دنیا کو ڈرون کے استعمال کی راہ دکھائی تھی ۔ جبکہ آذربائیجان کی جنگ میں ترکی ساختہ ڈرون طیاروں کی حیرت انگیز کامیابیوں نے پاکستان چین اور ترکی اتحاد کے مخالفوں کو خوف و ہراس میں مبتلا کر دیا ہے۔

ترکی کے ڈرون طیاروں کی کامیابی نے دنیا کو بتا دیا یے کہ جو ملک بہتر خودمختار ڈرون نظاموں تیار کرنے میں تکنیکی برتری حاصل کرے گا وہ اپنے حریفوں کے مقابل کامیاب ٹھہرے گا۔

 امریکہ کے ڈرون ایم کیو 9 ریپر سے آٹھ گنا کم وزن والے ترک ڈرون بیریکٹر ٹی بی 2 نے سمارٹ مائیکرو امیونیشن بارود کے حامل گائیڈڈ میزائیلوں سے درمیانی بلندی پر پرواز میں جس انداز میں آرمینی تنصیبات کو تباہ کیا ہے۔ اس سے دنیا کے بڑے اسلحہ ساز ممالک اور زمانہ دنگ اور دشمن خوف زدہ ہیں۔ یاد رہے کہ ترکی کے بیرکٹر ٹی بی 2 ڈرون نے رواں سال شام میں درجنوں روسی ساختہ اینٹی ائیرکرافٹ یونٹوں کو تباہ کیا تھا ۔ حتی کہ روسی سی وزیر دفاع کرسنایا زیزڈا کو بھی اعتراف کرنا پڑا کہ روس کا دفاعی نظام کم بلندی پر پرواز کرنے والے ترک ڈرون حملوں کیخلاف ناکام دفاع رکھتا ہے۔

گذشتہ فروری میں شامی ادلیب میں آپریشن اسپرنگ شیلڈ میں بائریکٹر نے روسی ڈیفنس سسٹم کیخلاف اعلی کارکردگی ، اہداف کو نشانہ بنانے کی بہترین شرح نے دنیا کے دفاعی مبصرین کو حیران کر دیا تھا ۔ ترکی نے روسی ساختہ پینٹاسر نظاموں کی تباہی کی ویڈیو جاری کی تو ثابت ہوا کہ روسی دفاعی نظام دراصل ترک بیرکٹر ڈرون کا پتہ لگانے اور ان کیخلاف دفاع میں بری طرح ناکام رہا تھا۔

پہلی بار 2014 میں بیریکٹر نے 27  ہزار فٹ کی بلندی پر 24 گھنٹے 34 منٹ تک مسلسل پرواز سے ترکی کی کامیابی کا پہلا اعلان کیا تھا۔ جس کے بعد ایسے 104 ڈرون  ترک فوج کے حوالے کیے گئے تھے۔ اپنی جنگی صلاحیتیں ثابت کرنے والا بیرکٹر ٹی بی 2  قطر اور یوکرین کو فروخت کیا جا چکا ہے ۔ اور کئی ممالک نے اس کی مسلسل کارکردگی دیکھتے ہوئے خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔

 ہندوستان کیلئے خطرات

ترکی کے پاکستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے مدنظر بھارت کیلئے پاکستان کے بائریکٹر ٹی بی ٹو ڈرون کے ممکنہ حصول پر سخت تشویش اور خوف لاحق ہیں ۔ کسی بھی دفاعی نظام کو مکمل طور اندھا کرنے کیلئے مشہور یہ ترک ٹی بی 2 ڈرون بھارتی فوجی قیادت کیلئے خوف کی علامت بن چکا ہے ۔ اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ بھارت کا 60 فیصد اسلحہ اور ہتھیار روسی ساختہ ہیں۔ اور ترک ڈرون سسٹم کی روسی پینٹسر اور ایس 300 جیسے جدید نظاموں کیخلاف تباہ کن کارکردگی ہے۔

پاکستان کی طرف سے ترکی کے ٹی بی 2 ڈرون اور اسی ٹیکنالوجی کے حامل چینی ساختہ ڈرون بھارتی سرحدوں پر تعینات کیے جانے پر بھارتی میزائیل لانچروں ،  ٹینکوں ، بکر بند گاڑیوں ، توپ خانوں ، بنکروں اور طیارہ شکن دفاعی نظاموں کو شدید خطرات لاحق ہوں گے۔

دونوں ہمسایہ ممالک چین اور پاکستان کے ساتھ تنازعات رکھنے والے بھارت کیلئے ترکی ڈرون سسٹم کی یبت کے علاوہ پاکستان اور چین کی خود مہلک ڈرون تیار کرنے اور استعمال کرنے کی اہلیت اسے خوف زدہ کرنے کیلئے کافی ہے۔ اسی خوف میں مبتلا بھارت نے اب اسرائیل سے ایک خودکش ڈرون ہارپ حاصل کیا ہے ۔

دفاعی مبصرین کے مطابق پاکستان کی فوجی صلاحیتیں اور ترکی اور چین کی طرف سے جدید ترین ڈرون ملنے کے امکانات کے پیش نظر بھارتی قیادت پر بھارتی فوج کی کمزریاں اجاگر ہو رہی ہیں۔ مبصرین کے مطابق بھارتی ہتھیاروں کو سرحد پر اور حتی کہ اس کی سرحدوں کے اندر بھی ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اور آذربائیجان کی جنگ میں ترک ڈرون کی کارکردگی بتاتی ہے کہ مہنگے لڑاکا طیاروں اور دفاعی نظام کی نسبت انتہائی سستے ڈرون اور کم بلندی والے میزائل بھارت کے روسی ساختہ اسلحہ و تنصیبات کیلئے موت کا پیغام ثابت ہوں گے۔ ترکی کے ڈرون طیاروں سے ایسے ہی تباہ کن خطرات شام اور عراق میں موجود بشار الاسد کی دہشت گردی کی حامی ایرانی فوج کو بھی ہیں۔

تحریر : فاروق رشید بٹ

افواج پاکستان کے نئے چینی ساختہ ٹینک وی ٹی 4 کے بارے میرا یہ آرٹیکل پڑھیں

پاکستان کیلئے چین کا نیا وی ٹی – 4 ٹینک ، الخالد کا جدید پاور فل ورژن ہے

DEFENCE ARTICLES

جے ایف - 17 کے جدید ورژن بلاک 3  میں فضا سے فضا میں مار کرنے والے...
In this March , Pakistan conducted a successful flight test of the Shaheen 1-A, a medium range...

Leave a Reply

DEFENCE NEWS

DEFENCE BLOG

OUR GULF ASIA NEWS SITE

GULF ASIA NEWS

Leave a Reply