بھارت کے بحیرہ چین میں نئے جنگی عزائم عالمی امن کیلئے سنگین خطرہ ہیں

کورونا کے وبائی پھیلاؤ سے مرتے ہوئے بھارتی عوام کے جان لیوا مصائب سے بے پرواہ نریندر مودی سرکار عالمی امن تباہ کرنے کیلئے ہمسایہ ممالک کیخلاف جارحانہ عزائم اور بحری جنگی مہم جوئیوں میں مصروف ہے

1
633
Indian navy warships in south china sea 2020

دنیا بھر میں کرونا وائرس کی وبا کی تباہی کا سلسلہ جاری ہے۔ اور بھارت اس وبائی پھیلاؤ میں امریکہ اور برازیل سے آگے پہلے نمبر پر پہنچ چکا ہے۔ بھارتی عوام کو انتہائی ہولناک صورت حال اور شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ 30 اگست کو ایک دن میں 79 ہزار کے قریب نئے مریضوں کی تعداد اب تک کا عالمی ریکارڈ ہے۔ لیکن افسوس کہ اپنےعوام کے جان لیوا مصائب اور شدید مشکلات سے بے پرواہ مودی سرکار پورے خطے کا امن تباہ کرنے کیلئے ہمسایہ ممالک کیخلاف جنگی مہم جوئیوں میں مصروف ہے۔

ہندوستانی بحریہ کے دو فرنٹ لائن جنگی جہاز بحیرہ جنوبی چین میں اپنے نئے اتحادی امریکہ کے پہلے سے موجود جنگی جہازوں کے بحری بیڑے میں شامل ہونے کیلئے روانہ ہو چکے ہیں۔

بحیرہ چین کے اس علاقے میں 2009ء سے چین مصنوعی جزیروں کے تعمیر اور بحری موجودگی کے ذریعے اپنی طاقت میں اضافہ کر رہا ہے۔ یہ دونوں بھارتی جہاز بحر ہند میں ملاکا آبنائے کے ساتھ اس سمندری ایریا میں تعینات کیے جا رہے ہیں جسے چین تجارتی مقاصد کی آمد و رفت کیلئے استعمال کرتا ہے۔

بھارتی خبر رساں ادارے اے این آئی کے مطابق وادی گالوان میں 20 فوجیوں کی ہلاکت کے بعد بھارتی بحریہ نے چین کے مقابل پہلے بھی ایک فرنٹ لائن جنگی جہاز بحیرہ جنوبی چین کے اسی حصے میں تعینات کیا تھا۔ جہاں چین کو کسی بھی دوسرے ملک کی بحری طاقت کی موجودگی پر سخت اعتراض ہے۔ چین اس سمندی علاقے کے پانیوں پر اپنا دعویٰ کرتا ہے۔ جبکہ امریکہ اور بھارت اس ایریا کو مشترکہ سمندری راستہ قرار دیتے ہیں

اس اخباری رپورٹ مین کہا گیا ہے کہ بحیرہ چین کے اس علاقے میں بھارتی بحری جنگی جہاز کی فوری تعیناتی پر چینی بحریہ اور سیکیورٹیاسٹیبلشمنٹ نے سخت اعتراضات اٹھائے ہیں۔ اور بھارتی جنگی جہاز کی موجودگی کے بارے بھارتی حکومت سے سفارتی سطح پر بات چیت شروع کرنے کا کہا ہے۔

ذرائع کے مطابق بحیرہ جنوبی چین میں جہاں امریکی بحریہ نے تباہ کن اور فریگیٹس تعینات کیے تھے۔ وہاں اب بھارتی بحری جنگی جہاز بھی امریکی وار شپس سے مواصلاتی نظام کے ذریعے مسلسل رابطہ برقرار رکھے ہوئے ہے

گذشتہ دنوں امریکی اور بھارتی جہازوں کی مشترکہ مشقوں کے دوراان ہندوستانی جنگی جہاز کو وہاں سے گزرنے والے دوسرے ممالک کے جنگی جہازوں کی نقل و حرکت کے بارے مسلسل اپ ڈیٹ کیا جارہا تھا ۔ اور آئیندہ بھی امریکی اور بھارتی بحریہ ایک دوسرے سے تعاون جاری رکھیں گے۔

بھارتی بحریہ آبنائے مالاکا کے ساتھ انڈیمن اور نیکبار جزیرے کے قریب جہاں اپنے مذید دو فرنٹ لائن بحری جنگی جہازوں کو تعینات کر رہا ہے ۔ یہ وہ راستہ ہے جہاں سے چینی بحریہ کے جہاز بحر ہند کے خطے میں داخل ہوتے ہیں ۔ بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی بحریہ کے جہازوں کی تعیناتی کا مقصد ان چینی بحری جہازوں کی نقل و حمل کی نگرانی کرنا ہے جو آبنائے مالاکا آبنائے سے گررتے اور تیل لے کر واپس آتے ہیں۔ یا دوسرے براعظموں کی طرف تجارتی سامان لے کر جاتے ہیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی بحریہ مشرقی یا مغربی محاذ پر مخالفین کی کسی بھی طرح کی جارحانہ کاروائی کا جواب دینے کی مکمل قابلیت رکھتی ہے۔ اور اسی مقصد کیلئے بھارت کی طرف سے اپنی بحری طاقت کی موجودگی نمایاں کی جا رہی ہے

بھارتی پریس رپورٹ میں دفاعی ذرائع کے حوالے سے بتایا جا رہا ہے کہ بھارتی بحریہ کا آبنائے ملاکا میں چینی بحریہ کی نقل و حرکت پر گہری نظر رکھنے کیلئے فوری طور پر خود مختار جنگی آبدوزیں ، بغیر پائلٹ ڈرون سسٹم اور راڈار سینسرز حاصل کرنے اور انہیں اس سمندری علاقے میں تعینات کرنے کا ارادہ ہے۔

Leave a Reply