Sunday, October 24, 2021

پاکستانی ایٹمی تنصیبات ، فضائی اڈوں اور ڈیموں کے شہ زور رکھوالے ایس ایس جی کمانڈوز

مجھے پاکستان کی بری بحری اور فضائی افواج کے ہر دبنگ جوان سے والہانہ محبت ہے۔ اور آپ بھی میری اس والہانہ محبت کا محور بن سکتے ہیں۔

سنہ 1953ء میں پاک فوج میں امریکن آرمی کی مدد سے پہلا ایلیٹ کمانڈو یونٹ تشکیل دیا گیا تھا ۔ بلوچ رجمنٹ کی اس بٹالین کو اٹک سٹی کے قریب چیراٹ ہیڈ کوارٹر میں تعینات کیا گیا تھا ۔

 
مارچ 1964 میں امریکی اسپیشل فورس گروپ (ایئربورن) کی ٹیم 19 بٹالین کیلئے پشاور میں تربیتی مرکز قائم کرنے کیلئے آئی ۔ اس ٹریننگ سکول میں کمانڈو وار اور ائر بورن جمپ ماسٹر کورس کروائے جاتے تھے۔ اس بٹالین کے تمام کمانڈو پیراشوٹ جمپ کے تربیت یافتہ تھے۔ تربیتی ٹیم میں پیشہ ورانہ مہارت کے حامل چار ایکسپرٹ “رگرز” شامل تھے ۔ جنہوں نے منتخب جوانوں کی تربیت کے فرائض ادا کئے تھے۔
 
اس دور میں اس 19 بلوچ کو ہی ایس ایس جی سمجھا جاتا تھا جسے 24 کمپنیوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ ہر کمپنی میں صحرا ، پہاڑوں اور پانیوں میں جنگی مہارت رکھنے والے مخصوص یونٹ تھے۔ ڈیزرٹ وار کمپنیوں نے 1964 میں امریکی اسپیشل فورسز کے ساتھ تربیتی مشقوں میں حصہ لیا تھا ۔
 
سنہ 1970ء میں ایس ایس جی میں انٹی ٹیررازم کا ٹاسک بھی شامل کیا گیا۔ یہ مشن غوطہ خوری میں مہارت رکھنے والی موسی کمپنی کو دیا گیا تھا۔ تاہم 1980 میں ہر کمپنی میں ایک الگ غوطہ خور یونٹ شامل کیا گیا۔ 1981ء میں برطانوی ایس اے ایس ماہرین کی ٹیم اس موسٰی کمپنی کی ایڈوانس تربیت کیلئے چیراٹ ٹریننگ سکول آئی ۔

 سنہ 1986 میں پاکستانی سپیشل سروس گروپ نے سری لنکن فوجیوں کیلئے بڑے پیمانے پر بنیادی تربیتی پروگرام شروع کیا۔ جس میں سری لنکن کمانڈوز کو ائر بورن پیراشوٹ جمپنگ کی تربیت بھی دی گئی۔

 
افغان جنگ آپریشنز میں ایس ایس جی کو جو اہم ٹاسک دیے گیے ان میں ہوائی سفروں کی حفاظت اور وی آئی پی سکیورٹی شامل تھے ۔ ایس ایس جی کی دو بٹالین عام طور پر کسی تیسری بٹالین کے ساتھ مل کر سرحدی علاقوں، ڈیموں اور ایٹمی تنصیبات جیسے اسٹریٹجک مقامات کی حفاظت کیلئے سرگرم رہتی ہیں۔ ہر بٹالین میں چار کمپنیاں اور 700 جوان ہیں۔ ہر کمپنی میں پلاٹون کی تقسیم اور ہر پلاٹون میں دس دس جوانوں کی ٹیموں کی تقسیم ہوتی ہے۔ بٹالین کی کمانڈ لیفٹیننٹ کرنل یا کرنل رینک کے آفیسر کرتے ہیں۔

پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کے بارے میرا یہ آرٹیکل بھی پڑھیں

پاکستان کے ٹیکٹیکل ایٹمی ہتھیار حتف اور نصر بھارتی جارحیت کیلئے سڈن ڈیتھ


 

ایس ایس جی کے انتخاب کیلئے کم سے کم دو سالہ فوجی تجربہ اور دیگر آرمی فارمیشن سے ایس ایس جی کیلئے تین سالہ اسائنمنٹ لازمی ہے ۔ نان کمیشنڈ آفیسرز سے ایس سی جی میں آنے والے مستقل طور پر یہ خدمات انجام دیتے ہیں۔ تربیت یافتہ جوان چیراٹ میں آٹھ ماہ کے ایس ایس جی کورس میں شرکت کرتے ہیں ۔ جہاں سخت جسمانی کنڈیشنگ پر سب سے زیادہ زور دیا جاتا ہے۔
 
ٹرینی جوانوں کیلئے 12 گھنٹوں میں 36 میل کا پیدل مارچ اور پورے گیئر کے ساتھ 40 منٹ میں 5 میل کی دوڑ ٹریننگ کا لازمی حصہ ہے۔ ٹریننگ کورس کی تکمیل پر پیراشوٹ جمپ ٹریننگ کیلئے ایئر بورن اسکول کورس چار ہفتوں کا ہوتا ہے۔ جب کہ ہفتے میں پانچ ڈے ٹائم اور دو نائٹ ٹائم ہوتے ہیں۔ ہوائی جمپ ٹریننگ کے بعد کمانڈو بیج نوازے جاتے ہیں۔
 
ایس ایس جی اسکول ٹریننگ کے دوران غیر معمولی صلاحتیوں کے حامل جوانوں کو ایڈوانس ایکسپرٹ ٹریننگ کیلیے منتخب کیا جاتا ہے۔ پشاور میں ہیلو کورس میں فری فال جمپ ٹریننگ پانے والوں کو اسکائی ڈائیور ٹیب اور ماؤنٹین وارفیئر اسکول ایبٹ آباد کورس کرنے والوں کو ماؤنٹین وارفیئر کا کوالیفیکیشن بیج ملتا ہے۔ جبکہ کراچی میں نیول اسپیشل سروسز گروپ ٹریننگ مکمل کرنے والوں کو کامبیٹ ڈائیور بیج سے نوازا جاتا ہے۔
 
نیول ایس ایس جی میں تین کیٹیگریاں بنائی گئی ہیں۔ 18 کلومیٹر کے تیراکوں کیلئے فرسٹ کلاس، 12 میل کے تیراکوں کیلئے سیکنڈ کلاس اور 6 میل کے تیراکوں کیلئے تھرڈ کلاس رکھی گئی ہے۔ ایس ایس جی جوانوں کو سپیشل وار اینڈ پیراٹروپر ٹریننگ کے ایڈوانس کورسز کیلئے امریکہ بھیجتا ہے۔ سیاچن وار کرائسس کے بعد برفانی پہاڑی علاقوں میں سپیشل وار ٹریننگ کیلئے سنو اینڈ ہائی ایلٹیٹیوٹ وار فیئر اسکول بھی قائم کیا گیا ہے۔
 
جب 19 بلوچ بٹالین بنی تو پاکستانی اسپیشل فورسز کو سبز کیپ اور میرون بلوچ ٹیب نے ایک الگ شناخت دی۔ ایس ایس جی وجود میں آیا تو گرین بیریٹ کی جگہ میرون بیریٹ اس کی شناخت بن گئی ۔ ایک بلین ایس ایس جی کے سینے پر سیاہ رنگ کا پیرا ونگ ہوتا ہے۔ ایک سرخ رنگ کا ورژن کم از کم 50 ائر جمپس کا تجربہ رکھنے والا ماسٹر پیراشوٹر پہنتا ہے۔ 19 بلوچ کیلئے بیج میں لائٹننگ بولٹ والا خنجر شامل ہوتا ہے۔
سپیشل قابلیت ٹیب اور بیج جیسے سکائی ڈائیور ، سکوبا ڈائیور یا ماؤنٹین وارفیئر دائیں کندھے پر آویزاں ہوتے ہیں۔ شولڈر رینک پٹے پر چاندی کی دھات کی بنی ایس ایس جی انجنیا سجی ہوتی ہیں۔
 
مجھے اپنی بری فضائی اور بحری فوج کے ہر دبنگ جوان سے والہانہ محبت ہے۔ آپ بھی میری والہانہ محبت کا محور بن سکتے ہیں۔ آپ میں عزم و حوصلہ ، ولولہ ، قابلیت اور صلاحیت ہے تو آپ بھی سپیشل سورسز گروپ کا حصہ بن کر وطن عزیز کے رکھوالے اور قوم کی محبت بن جائیں

 تحریر : فاروق رشید بٹ 

DEFENCE ARTICLES

جے ایف - 17 کے جدید ورژن بلاک 3  میں فضا سے فضا میں مار کرنے والے...
In this March , Pakistan conducted a successful flight test of the Shaheen 1-A, a medium range...

Leave a Reply

DEFENCE NEWS

DEFENCE BLOG

OUR GULF ASIA NEWS SITE

GULF ASIA NEWS

Leave a Reply