چین اور بھارت جھڑپ میں بھارتی فوجی ہلاکتیں 20 سے زیادہ ہو سکتی ہیں

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو کانگرس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے جواب طلبی اور غم و غصہ سے بپھری ہوئی بھارتی عوام کی طرف سے کڑی تنقید کا سامنا ہے

1
2020
China vs India clashes updates
چین بھارت حالیہ جھڑپوں کے حوالے سے بھارتی میڈیا پر متضاد دعوے جاری ہیں۔ کچھ عالمی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق کل بھارتی فوج کی 20 ہلاکتوں کے علاوہ 60 سے زیادہ فوجی شدید زخمی حالت میں تھے۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بھارتی ہلاکتوں کی تعداد 20 سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ لیکن بھارت اپنے فوجیوں کی ہلاکتوں کے حوالے سے تازہ ترین اعداد و شمار بتانے سے گریزاں ہے۔
 
دوسری طرف بھارتی میڈیا پر بھی ایسے کئی متضاد دعوے کیے جا رہے ہیں کہ حالیہ سرحدی جھڑپ میں ہلاک اور زخمی ہونے والے چینی فوجیوں کی تعداد 43 سے زائد ہے۔ جبکہ بین الاقوامی پریس اینڈ میڈیا اور چینی ذرائع ایسی خبروں کی تردید کرتے ہیں۔
 
چین کی سرکاری ایجنسی کے مطابق چین نے بھارت کے ساتھ سرحدی تنازعہ کے پر امن حل پر اتفاق کیا ہے۔ چینی وزارت خارجہ  نے کہا ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ مزید پرتشدد جھڑپیں نہیں چاہتے۔ لیکن ساتھ ہی چینی ترجمان ژاؤ لیجیان نے بھارت کو متنبہ کیا ہے  کہ اب وہ اشتعال انگیزی سے باز رہے تاکہ سرحد پر صورتحال مزید کشیدہ نہ ہو۔
 
دوسری جانب بھارتی وزیراعظم نریندر مودی چین کے ہاتھوں پے درپے بھارتی شکستوں اور بیس سے زیادہ فوجی ہلاکتوں پر اپنی سیاسی ساکھ بچانے کی کوششوں میں مصروف نظر آتے ہیں۔ نریندر مودی کو بھارتی اپوزیشن اور عوام کی طرف سے سخت تنقید کا سامنا ہے۔ جس کے جواب میں مودی نے کہا ہے کہ بھارت اپنے فوجیوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اب چین کی جارحیت کی صورت میں مونہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔۔
بھارت میں ٹیلی ویژن چینلوں، اخبارات اور سوشل میڈیا پر لداخ جھڑپ میں بھارتی فوجیوں کی ہلاکتوں اور چین کے ہاتھوں حالیہ بھارتی شکستوں کے معاملہ پر گرما گرم بحث جاری ہیں ۔ سیاسی اور عوامی حلقوں کی طرف سے نریندر مودی سرکار پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔
 
بھارت کے خبر رساں ادارے اے این آئی نے نریندر مودی کا ایک ویڈیو بیان جارں نے چین کے ساتھ فوجی کشیدگی کے حوالے سے اپنے ردِ عمل کا اظہار کیا ہے۔ نریندر مودی کا کہنا ہے کہ بھارت امن کا خواہاں ہے لیکن جارحیت پر اکسانے کی صورت میں بھرپور جواب دے گا۔
 
جبکہ چینی ترجمان اور عالمی پریس کے مطابق علاقے میں جھڑپوں کی وجہ متنازعہ علاقے میں بھارتی فوج کی مداخلت اور جارحانہ سرگرمیاں تھیں۔ جبکہ چینی ذرائع اور عالمی دفاعی مبصرین حالیہ کشیدگی کی وجہ بھارتی فوج کی چین کے زیر کنٹرول علاقے میں بیجا مداخلت قرار دیتے ہیں۔
 
دفاعی مبصرین کے مطابق بھارت نے چینی فوجی فوجی قوت کا غلط اندازہ لگایا اور علاقے میں جنگی مہم جوئیوں کی کوشش کی جس کے جواب میں چینی فورسز کے سخت رد عمل سے حالات اس قدر کشیدہ ہیں۔
بھارتی اپوزیشن کی بڑی جماعت کانگریس نے نریندر مودی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ “وزیرِ اعظم صاحب، یہ آپ کا فرض ہے کہ بھارتی شہریوں کے ساتھ سچ بولیں۔ ہمیں اور عوام کو  بتائیں کہ ہمارے فوجی کیسے مارے گئے؟ چینی فورسز کو ہماری زمین پر قبضہ کیسے کرنے دیا گیا اور آپ اب یہ معاملہ کیسے حل کریں گے؟”۔۔
 
کانگریس کے ہی ایک رہنما سرل پٹیل نے کہا کہ بھارتی کی فوجی شکست کی وجہ نریندر مودی کی غلط پالیسیاں ہیں، انہوں نے نریندر مودی کو کمزور ترین وزیرِ اعظم قرار دیا۔ کانگریس لیڈر نے اپنے ایک ٹوئٹ پیغام میں لکھا کہ نریندر مودی اور ان کی جماعت کی پالیسی کی ملک کو بھاری قیمت چکانا پڑی ہے۔
 

Leave a Reply