پاکستان کے ایٹمی اسلحہ بردار زمینی ، بحری اور فضائی کروز میزائیل

کروز میزائل جیٹ انجن اور ایروڈائنامک لفٹ کے سہارے پرواز کرنے والا ایسا بغیر پائلٹ ہتھیار بردار ڈرون ہے جسے دور دراز کے اہداف...

پاکستان کے ٹیکٹیکل ایٹمی ہتھیار حتف اور نصر بھارتی جارحیت کیلئے سڈن ڈیتھ

چین کے ہاتھوں بھارت کی حالیہ شکستوں کے بعد لداخ کی ہمالیائی سرحدوں کا تناؤ بتدریج اروناچل پردیش ، سکم اور اتر اکھنڈ  تک...

پاک فضائیہ کے پاکستان میراج ری بلڈ فیکٹری میں اپ گریڈڈ میراج لڑاکا طیارے

پاک فضائیہ کا ملٹی رول فائٹر جیٹ میراج 3 اور 5 ورژن پچاس سال پرانا ہونے کے باعث کم اہمیت کا حامل سمجھا جاتا...

پی کے ۔ 15، جے ایف ۔ 17 اور الخالد سے ففتھ جنریشن سٹیلتھ پراجیکٹ عزم تک

عالمی دفاعی مبصرین کے مطابق پی کے 15 اسالٹ رائفل سے الخالد ٹینک اور جے ایف 17 تھنڈر تک پاکستان کی دفاعی پروڈکشن تیزی...

پاکستان ائرفورس کا تربیتی جیٹ اور شیر دل کا ایروبیٹکس طیارہ قراقرم ۔ 8

پاکستان ائر فورس میں فائٹرپائلٹس کی ٹریننگ کیلئے استعمال کیا جانے والا پاکستانی قراقرم ۔ 8 یا کے ۔ 8 پی ایک انٹرمیڈیٹ ٹرینر...

پاکستان کا الخالد ٹینک تباہ کن اٹیک اور جدید ترین ڈیفنس سسٹم کا زبردست امتزاج

الخالد ٹینک پاکستان آرمی کے زیر سروس ایسا جدید مین بیٹل ٹینک ہے، جسے ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا نے پاکستان میں تیار کیا ہے۔ الخالد...

چین نے بھارتی دریاؤں پر کنٹرول کا لیکوئڈ بم چلانے کی دھمکی دے دی

دفاعی اور معاشی ماہرین کے مطابق چین نے بھارت کی نئے اتحادی امریکہ آسٹریلیا اور جاپان کے ساتھ مل کر جنگی مشقوں سے دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی کا مونہ توڑ جواب دیا ہے

لداخ سیکٹر میں ہندوستان کو فوجی محاذ پر بدترین شکست دینے کے بعد چین نے تبت سے بھارت میں داخل ہونے والے اہم دریاؤں کا پانی روک کر بھارت میں خشک سالی اور معاشی تباہی پھیلانے کیلئے پانیوں پر کنٹرول کا لیکوئیڈ بم چلانے کی دھمکی دی ہے۔
 
چین تبت سے شمال مشرقی ہندوستان میں بہنے والے یارلنگ سانگپو پر میگا ڈیم شروع کر رہا ہے۔ چین کو وسیع میٹھے پانی اور برفانی وسائل کی وجہ سے “تیسرا قطب” کہا جاتا ہے۔ تبت کی وجہ سے بھارت میں داخل ہونے والے دریاؤں کے پانیوں پر کنٹرول چین کو ایک اسٹریٹجک کنٹرول فراہم کرتا ہے۔

تبت سے نکلنے والی ندیاں قریبی ہمسایہ ممالک کیلئے انتہائی اہم ہیں۔ تاہم چین کی طرف سے بھارت کے ساتھ پانی کی بندش کو ایک ہتھیار ” لیکوئڈ بم” کے طور پر استعمال کرنے کی دھمکی دراصل بھارت کا امریکہ ، آسٹریلیا اور جاپانی کے ساتھ ملکر چینی سرحڈوں اور بحیرہ جنوبی چین میں چین پر جنگی دباؤ ڈالنے کا کرارا جواب ہے۔

 
چین کے اخبار مارننگ پوسٹ کے مطابق بھارت شید خوف زدہ ہے کہ بیجنگ اس خطے پر اپنا کنٹرول بڑھانے اور بھارت کی امریکہ اور دیگر اتحادیوں کے ساتھ ملک کر جنگی دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی کا جواب دینے کیلئے ڈیموں اور پانی کے دیگر ذرائع کو اسٹریٹجک ہتھیار کے طور پر استعمال کرسکتا ہے۔ سنہ 2000 کے بعد چین نے دریا کے وسط تک پہنچنے والی توانائی کو بروئے کار لانے کے لئے درہائے برہما پترا پر ہائیڈرو پاور منصوبوں کا طویل مدتی پلان بنایا ہے۔ چین نے بھارت میں داخل ہونے والی ندیوں کی نچلی سطحوں پر کنٹرول بھارت کیلئے تباہ کن نتائج کا حامل ہو گا۔
 
چینی اخبارات کے مطابق پچھلی ایک دہائی سے ایک درجن کے قریب ہائیڈرو الیکٹرک پراجیکٹس شروع کر رکھے ہیں۔ ان پراجیکٹس میں سب سے بڑا پراجیکٹ زانگمو ڈیم ہے۔ جس نے 2015 میں مکمل طور پر کام کرنا شروع کیا تھا۔ اس کے علاوہ تبت کے بایو ، جیکسی ، لانٹا ، ڈکپا ، نانگ ، ڈیمو ، نمچا اور میٹوک نامی شہروں میں پن بجلی گھر زیر منصوبہ یا زیر تعمیر ہیں۔
 

دریائے یار لونگ کا وسطی طاس چین اور بھارت کے درمیان لائن آف لائن آف ایکچول کنٹرول کا قریبی علاقہ انتہائی اہم سٹریٹجک اہمیت کا حامل ہے۔ یہ چین اور ہندوستان کے مابین 3،488 کلومیٹر طویل سرحد تک پھیلا ہوا ہے ۔

 
بھارتی مبصرین کے مطابق چین کے شروع کردہ ان ڈیم پروجیکٹس سے بھارت میں شدید پریشانی میں مبتلا ہے کیونکہ ایل اے سی کے قریب چینی ڈیموں کی تعمیر کے معانی بھارت میں داخل ہونے والے ہمالیائی دریاؤں پر چین کا مکمل اسٹریٹجک کنٹرول ہے۔ اور یہ صورت حال بھارت کے اس وسیع و عریض علاقے میں خوف ناک خشک سالی اور معیشت کی تباہی ہے،
چینی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ بیجنگ نے اروناچل پردیش کو کبھی بھی خطرناک علامت کے طور پر تسلیم نہیں کیا ہے۔ چین ڈیموں اور دیگر آبی انفراسٹرکچر کو اپنی منشا کے مطابق خطے پر اپنا کنٹرول بڑھانے کیلئے اسٹریٹجک ٹول کے طور پر استعمال کرسکتا ہے۔ یاد رہے کہ چین نے جون 2020 میں پاراچو جھیل کے پانیوں کے کنٹرول کے ذریعے لیکوئڈ بم استعمال کرنے کا عملی مظاہرہ کیا تھا۔ اور دریا کی سطح میں 12 سے 14 میٹر تک اضافہ دیکھا گیا تھا۔
 
دفاعی اور معاشی ماہرین کا کہنا ہے جب تک دونوں ممالک کے مابین دوطرفہ تعلقات میں بہتری نہیں آتی اور لداخ سرحد پر قابل قبول معاہدہ نہین ہو جاتا ایسی آبی جنگوں کے حل کا کوئی امکان نہیں ہے۔ چین نے بھارت کی اپنے نئے اتحادی امریکہ آسٹریلیا اور جاپان کے ساتھ مشترکہ جنگی مشقوں سے دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی کا مونہ توڑ جواب دیا ہے۔ چین بھارت کی طرف سے اپنے جنگی اتحادیوں کے ساتھ مشترکہ فوجی طاقت کے مظاہروں اور بھارتی اسلحہ کی نمائش کو کسی خاطر میں نہیں لائے گا
۔
چینی فوجی طاقت کے بارے ذیل کے لنک پر میرا یہ مضمون بھی پڑھیں
FAROOQ RASHID BUTThttp://thefoji.com
Farooq Rashid Butt alias Farooq Darwaish is an ex banker, a defence analyst, journalist, patriotic blogger, poet and freelancer WordPress web designer. A passionate flag holder of peace of the world

DEFENCE ARTICLES

بی جے پی راہنما راجیشور سنگھ کا کہنا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے مطابق 2021 تک...
دنیا کے جدید ترین طیاروں سے لیس ہندوستانی فضائیہ طیاروں اور عملے کی تعداد کے اعتبار سے...
مل ماسکو ہیلی کاپٹر پلانٹ روس کا تیار کردہ ایم آئی ۔ 35 ایم ملٹی رول اٹیک...
اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ نے 23 فروری 1987ء کو یہ انکشاف شائع کیا کہ اسرائیل نے پاکستانی...
نیٹو کی جنگی مشقوں کے علاوہ ایف 16 اور رافیل جیٹس کبھی کسی بھی فضائی لڑائی میں...
سنہ 1953ء میں پاک فوج میں امریکن آرمی کی مدد سے پہلا ایلیٹ کمانڈو یونٹ تشکیل دیا...

Comments

Leave a Reply

DEFENCE NEWS

ایرانی ایٹمی سائینس دان محسن فخری زادے کا قتل کمزور حفاظتی نظام کا نتیجہ ہے

ایرانی ایٹمی پروگرام کے بانی اور اہم ایٹمی سائینس دان محسن فخری زادہ تہران میں قتل کر دیے گئے ہیں ۔یاد رہے کہ یہ...

فرانس نے پاکستانی میراج طیارے اور اوگسٹا ابدوزیں اپ گریڈ کرنے سے انکار کر دیا

پاکستانی عوام اور حکومت نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے اسلام کیخلاف متنازعہ بیانات پر کڑی تنقید کی ہے۔ حکومت نے عوام کی طرف...

شکست خوردہ آرمینی فوج نے کاراباخ چھوڑتے ہوئے گھر ہسپتال اور جنگلات نذرِ آتش کر دیے

روس کی مداخلت اور ثالثی میں آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان طے پانے والے جنگ بندی کے سمجھوتے کے مطابق شکست خوردہ آرمینی مقبوضہ...

آذربائیجان جنگ کے ہیرو ٹی بی 2 ترک ڈرون اور پاک ترک دوستی سے خوف زدہ بھارت

دنیا کے جدید اسلحہ ساز حیرت زدہ تھے جب آذربائیجان کے ڈرون حملوں نے آرمینی دفاع کو مکمل تباہ و برباد کر کے اسے...

DEFENCE BLOG