افغان دہشت گرد مراکز پر حملے انڈین پراکسی گروپس اور سہولت کاروں کے خاتمے تک جاری رہیں گے

پاکستان ہمیشہ سے امن کا خواہاں ہے لیکن اپنی سلامتی اور خود مختاری پر دو ٹوک اور دبنگ موقف بھی رکھتا ہے۔ اور تاریخ، سیاست اور امن و سلامتی کی گھمبیر پیچیدگیوں میں گھرے ہوئے اس خطے میں افغان سرزمین سے پھوٹنے والی ہر دہشت گردی کو بہر صورت روکنے کیلئے بھرپور دفاعی حکمت عملی اپنانے کیلئے تیار ہے۔ پاکستان نے انڈین پراکسی دہشت گردوں کو سہولت کاری فراہم کرنے والے افغان طالبان کیخلاف زمینی اور فضائی حملوں اور دیگر فوجی کاروائیاں جاری رکھنے کیلیے واضح طور پر اپنے غیر متزلزل عزم کا اعلان کیا ہے ۔

پاکستان کا افغان دہشت گرد مراکز پر حملے جاری رکھنے کا اصولی موقف اپنی قومی سلامتی کو یقینی بنانے اور علاقائی استحکام کو برقرار رکھنے کی پہلی اور آخری ضرورت پر مبنی ہے۔

تاریخ گواہی دیتی ہے کہ پاکستان ایک عرصہ سے اس عسکریت پسندی اور دہشت گردی کیخلاف نبرد آزما رہا ہے جو ہمیشہ افغانستان کی سرزمین پر پروان چڑھی اور پاکستان کے شہری اور قبائلی علاقوں کی مساجد و بازار سے لیکر دفاعی تنصیبات تک پھیلتی رہی ہے۔ پاکستان کی طرف سے ہر مثبت کاوش اور برادرانہ سلوک کے باوجود افغان طالبان نے ہر بار بھارت کی فرمانبردار کٹھ پتلی ہونے کا خطرناک کردار نبھا کر پاکستان کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کی کوشش کی ہے۔ لہذا پاکستان سمجھتا ہے کہ اب اس صورت حال میں افغان طالبان اور ان کی سہولت کاری سے پروان چڑھنے والے دہشت گردوں کا دوبارہ سر اٹھانا نہ صرف پاکستان بلکہ دوسرے پڑوسی ممالک کیلیے بھی سنگین خطرہ ہو گا۔

اس حوالے سے پاکستان ایک عرصہ سے ان دہشت گرد گروپس کو بھارت اور دوسرے انٹی پاکستان قوتوں کی طرف سے فراہم کردہ سہولت کاری اور فنڈنگ کے بارے عالمی فورموں پر آواز اٹھاتا رہا ہے۔ لیکن طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد دہشت گرد کاروائیوں میں ہوش ربا اضافے کے ساتھ پاکستان کو ایک ایسی نازک صورتحال درپیش ہے، جس میں فیصلہ کن کارروائی “اب نہیں تو کبھی نہیں” جیسی ناگزیر ہو چکی ہے۔ پاکستانی فوج کی طرف سے افغان سرزمین پر فعال دہشت گرد مراکز کیخلاف فیصلہ کن اقدامات کے حالیہ اعلانات، پاکستان کے انسداد دہشت گردی کے نقطہ نظر میں ایک اہم تبدیلی کو نمایاں کرتے ہیں۔

بھارت کا اگلا فلاپ شو ففتھ جنریشن سٹیلتھ فائیٹر پروگرام ـ لیکن کیوں؟

پاکستان کا یہ فیصلہ انتہائی اہم ہے کہ جب تک افغان سرزمین پر عسکریت پسند گروپوں کا مکمل خاتمہ کر کے ان کو نمایاں طور پر بے اثر نہیں کیا جاتا، پاکستان ان کیخلاف اپنی تباہ کن کارروائیاں جاری رکھے گا۔ عالمی دفاعی مبصرین کے مطابق پاکستان کے اس پختہ انداز اور جارحانہ نوعیت کے فیصلے کی وجوہات افغان سرحد پار سے پھوٹنے والی دہشت گردی کا شکار پاکستان کے ان دیرینہ تجربات سے جڑی ہوئی ہیں۔ جنہوں نے اس کے سماجی و اقتصادی استحکام اور ملکی امن و سکون کو مسلسل نقصان پہنچائے ہیں۔ مزید برآں، پاکستان کی طرف سے “انڈین پراکسی دہشت گرد” کی اصطلاح پاکستان کے اس یقین کی نشاندہی کرتی ہے کہ اس کے امن و سلامتی کو غیر مستحکم کرنے میں بھارت اور دیگر بیرونی عناصر کے ہاتھ یقینی ہیں۔

خیال رہے کہ صرف پاکستان ہی نہیں گذشتہ تین دہائیوں سے جنوبی ایشیا کی جغرافیائی سیاست میں بھی عسکری پراکسیوں کا عمل دخل خون آشام تنازعات کا باعث رہا ہے۔ پاکستان نے عالمی سطح پر بار ہار یہ آواز اٹھائی ہے کہ بھارت ہمیشہ سے پاکستان کے استحکام اور خود مختاری کو نقصان پہنچانے کیلیے عسکری گروپوں کی حمایت جیسی فاؤل پلے حکمت عملیاں اور مختلف ذرائع استعمال کرتا ہے۔ پاکستان کی عسکری حکمت عملی پر عالمی برادری کا مثبت ردعمل امن کے قیام کیلئے بیحد اہم ہے۔ جہاں دوسرے ممالک اپنے علاقائی سلامتی کے حق کے ساتھ دوسری اقوام کی خود مختاری کو دل سے تسلیم کرتے ہیں، وہیں پاکستان بھی دوسرے ممالک کی سلامتی و استحکام کے حق کو تسلیم کرتا اور اپنے اسی حق کے تحت اپنی سلامتی کیخلاف فعال قوتوں کو کچلنے میں عین حق بجانب ہے۔ البتہ پاکستان اس امر سے بخوبی واقف ہے کہ اپنے قومی دفاع کی حکمت عملی اور عالمی معیارات کی تعمیل کے درمیان توازن بہر صورت برقرار رکھنا ہو گا۔

عالمی برادری کو یہ امر کو مدنظر رکھنا ہو گا  کہ پاکستان کے افغانستان میں موجود دہشت گرد اور تخریب کار گروہوں پر فوجی حملے انسداد دہشت گردی کیلئے ایک وسیع حکمت عملی کا حصہ ہیں۔

پاکستان نے علاقائی تعاون کیلئے سفارتی کوششوں کے ساتھ ساتھ ان مسائل کو حل کرنے کیلیے افغانستان اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بات چیت کرنے کی کوششیں بھی کی ہیں۔ تاہم، ان سفارتی کوششوں کی مسلسل ناکامی نے پاکستان کو جوابی اقدامات کی حکمت عملی اپنانے پر مجبور کیا ہے۔ پاکستان کو یقین ہے کہ اس کے فوجی اقدامات افغانستان کی سرزمین استعمال کرنے والے دہشت گردوں کے خاتمے اور پاکستان سمیت دیگر ہمسایہ ممالک میں دیرپا امن کے قیام میں اہم کردار ادا کریں گے۔

عالمی مبصرین بھی اس امر سے متفق ہیں کہ ضدی رویوں کے حامل افغان طالبان اور ان کی گود میں پلنے والے بھارتی پراکسی دہشت گرد گروپس کے خلاف پاکستان کے زمینی اور فضائی حملے جاری رکھنے کیلیے پاکستان کے جرات مندانہ اقدام دیرینہ سیکیورٹی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے اس کے پختہ عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔ اور ان حالات میں پاکستان کا یہ دبنگ فیصلہ اور ناگزیر حکمت علمی عین درست ہے کہ پاکستان کے زمینی اور فضائی حملے اب افغانستان کے اقتدار پر زبردستی قابض امن دشمن مافیوں اور ان کی سہولت کاری کی بدولت پاکستان میں دہشت گردی کی آگ بھڑکانے والے بھارتی پراکسی گروہوں کے مکمل خاتمے تک جاری رہیں گے

Females can Join Pak Army as Captain through Lady Cadet Course (LCC)

Farooq Rashid Butt
Farooq Rashid Butthttp://thefoji.com
Chief Editor of Pakistan Defence Times and Voice of Pakistan, a defence analyst, patriotic blogger, poet and web designer. The passionate flag holder of world peace
OUR FIELD MARSHAL NEWSspot_imgspot_img

DEFENCE ARTICLES

پاکستان نے آذربائیجان کے ساتھ اپنے تیار کردہ جنگی ساز و سامان اور ہتھیاروں کی فروخت کا...
ساؤتھ ایشیا اور بحیرہ ء عرب سے بحر ہند کی فضاؤں تک سپرمیسی کا ضامن ۔۔ چین...
عالمی مبصرین اور چینی ماہرین کے مطابق پاکستان کا چین سے ٹون انجن سنگل سیٹ ففتھ جنریشن...
پاکستان ائر فورس کے ترجمان کے مطابق پاکستان نے دنیا کے جدید ترین ہائپر سونک میزائل سمیت...

Leave a Reply

DEFENCE NEWS

Our Voice of Pakistan Pagespot_imgspot_img

DEFENCE BLOG

Leave a Reply