کشمیر اور فلسطین کے مسلمانوں کا حامی ترکی عالمی ٹارگٹ ہے

مستقبل میں چین ، روس ، ترکی اور پاکستان کا ممکنہ اتحادی بلاک امریکی تاجداری اور مغربی اجارہ داری کیلئے ایک ڈراؤنا خواب ہے ۔ ترکی کا عالمی فورم پر کشمیری اور فلسطینی مسلمانوں کے حقوق کیلئے آواز اٹھانا امریکہ اور مغربی دنیا کو قبول نہیں

ترکی میدان میں ڈٹ گیا تو ناگورنوکاراباخ پر غاصبانہ قابض آرمینیا کو آذربائیجان کے ہاتھوں فیصلہ کن شکست سے بچانے کیلئے امریکہ اور یورپی ممالک کے دباؤ کے باوجود آذر بائیجان کی فتح تک جنگ جاری رہی ۔ آذربائیجان کے ترکی ساختہ جنگی ہیلی کاپٹرز اور ڈرون طیاروں سے چلنے والے ترک میزائیل آرمینائی ٹینکوں ، ڈیفنس سسٹمز اور دفاعی تنصیبات کی تباہی کا سبب بنے۔  
 
عالمی اجارہ داری کیخلاف مضبوط مسلم طاقت ترکی سے خائف یورپ نے دباؤ ڈالنے کیلئے یہ رٹ لگائے رکھی کہ صرف ترکی کے مؤقف میں تبدیلی ہی تنازعہ کے تصفیہ کی راہ کھول سکتی ہے۔ جبکہ امریکہ اسرائیل اور یورپ کا کٹھ پتلی آرمینیا بھی کہتا رہا کہ ترکی ہی آذربائیجان کو جنگ سے روک سکتا ہے۔ آرمینیائی وزیراعظم کے مطابق انہیں یقین تھا کہ جب تک ترکی کی حمایت جاری رہے گی آذربائیجان کی طرف سے جنگ جاری رہے گی
 
ترکی پر دباؤ ڈالنے کیلئے بحیرہ روم میں امریکہ اور مغربی ممالک کے بھرپور دباؤ کے باوجود ترکی اپنی خود داری کے تحفظ کیلئے میدان میں اتر آیا ۔ ترکی نے امریکہ اور یورپی ممالک کی شدید مخالفت کے باوجود یونان کے قریبی متنازعہ سمندری علاقے میں تیل کی تلاش کیلئے اپنا بحری جہاز روانہ کیا۔ جس کے بعد یورپی اتحاد اور سرپرست امریکہ نے ترکی سے اپنا تیل تلاش کرنے والا جہاز واپس بلانے کا مطالبہ کر دیا تھا۔
۔
امریکہ نے ترکی کے اس اقدام کو ” منصوبہ بند اشتعال انگیزی” قرار دیا ۔ ترکی کے اقدام کو غنڈہ گردی قرار دینے والے یونان ، فرانس اور جرمنی کا شدید غم و غصہ بتا رہا تھا کہ امریکہ اور مغرب کو ترکی کی صورت میں ایک ابھرتی ہوئی مسلم طاقت برداشت نہیں ۔ جبکہ ترکی نے سب اعتراضات مسترد کرتے ہوئے اپنا بحری جہاز واپس بلانے سے انکار کر دیا ۔ ترکی کا کہنا تھا کہ تیل اور قدرتی وسائل کی تلاش کیلئے ہمارے بحری جہاز سمندری سروے کرتے رہیں گے۔ ترکی کے مطابق اورک ریس وسائل کی تلاش کیلئے بحیرہ روم میں گیا تھا ۔ اور اپنے سمندروں میں قدرتی وسائل کی تلاش کرنا ترکی کا قانونی حق ہے۔
تیسری طرف امریکہ اور یورپی اتحاد کی طرف سے ترکی کیخلاف اس اجتمائی دھونس کے ماحول میں ترکی کی طرف سے بحیرہ اسود میں روس سے خریدے گئے ایس – 400 اینٹی ایئرکرافٹ ڈیفنس سسٹم کا ٹیسٹگ پروگرام امریکہ کو شدید ناگوار ہے۔ یاد رہے کہ امریکہ نے ترکی کی روسی ایس – 400 ڈیفنس سسٹم کی خریداری کی شدید مخالفت کی تھی۔ جس سے ترکی کے امریکہ ، نیٹو اتحادیوں اور ہمسایہ ممالک سے تعلقات میں شدید تناؤ کے خدشات پیدا ہوئے ۔ جبکہ عالمی دفاعی مبصرین کے مطابق بھی یہ تنازعہ کسی بڑے جنگی تنازعہ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔

ایس – 400 ائر ڈیفنس سسٹم کیا ہے؟

زمین سے فضا میں میزائیل داغنے والے ایس – 400 ائر ڈیفنس سسٹم کا راڈار سسٹم طیاروں یا میزائیلوں کو بروقت دیکھ اور ٹریک کرسکتا ہے۔ اس کے ملٹی پل میزائل 400 کلومیٹر تک ملٹی پل اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جبکہ امریکی پیٹریاٹ سسٹم ایک وقت میں ایک میزائل فائر اور 100 کلومیٹر تک ایک ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ ایس – 400 نیچی یا انتہائی بلندی پر پرواز کرنے والے اہداف بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔ یہ ان تیز رفتار میزائیلوں کو بھی تباہ کرسکتا ہے جو چکمہ دیکر چلتے ہیں۔ اس کے میزائیل ہدف کا پیچھا کرتے ہوئے آواز کی رفتار سے 14 گنا رفتار میں تیزی سے مڑنے کی صلاحیت کے ساتھ تباہ کر سکتے ہیں۔
 
ترکی کا امریکہ اور نیٹو اتحاد کے سامنے سینہ تان کر کھڑا ہونا دنیا کیلئے کسی بڑے جنگی تنازعہ کا باعث ہو سکتا ہے۔ ترکی کو امریکہ اور نیٹو ممالک کا اہم حلیف اور امریکی ایف 35 اسٹیلتھ فائٹر پروگرام کا لازمی حصہ سمجھا جاتا تھا۔ ترکی یہ جدید امریکی طیارے حاصل کرنے والوں میں پہلے نمبر پر شامل کیا گیا تھا۔ جبکہ اس وقت ترکی عالمی منڈی میں ایک جدید ڈیفنس سسٹم کی تلاش میں بھی تھا۔ لیکن امریکہ کی طرف سے پیٹریاٹ ڈیفنس سسٹم بیچنے میں تذبذب نے اسے بالآخر روس سے ایس – 400 خریدنے پر مجبور کر دیا۔
 
ترکی سے پیٹریاٹ ڈیفنس سسٹم ڈیل میں حیل و حجت کرنے والے امریکہ کی طرف سے ترکی کے روسی دفاعی نظام خریدنے پر شدید مذمت حیرت انگیز ہے۔ روسی ڈیفنس سسٹم خریدنے کے جرم میں امریکہ نے ترکی کو گذشتہ سال جولائی میں اپنے ایف 35 سٹیلٹھ فائٹر پروگرام ڈیل سے باہر نکال دیا تھا۔ امریکہ کو تشویش ہے کہ امریکی اسٹیلتھ فائٹر پروگرام کا حصہ بننے والے ترکی نے ان امریکی سٹیلتھ طیاروں کو تباہ کرنے کیلئے ڈیزائن کردہ ایس – 4000 ڈیفنس سسٹم کیوں خریدا ہے۔
۔
امریکہ کو یہ بھی خدشات ہیں کہ امریکی اور مغربی غلامی سے آزاد فضا کی طرف جاتا ہوا ترکی مستقبل میں اس کے ایف – 35 سٹیلتھ طیاروں کی ٹیکنالوجی روس یا چین کو فراہم کر سکتا ہے۔ یا ترکی اور پاکستان کے درمیان اتحادی معاہدے کی صورت میں یہ طیارے امریکہ کے نئے اتحادی بھارت کیخلاف بھی استعمال ہو سکتے ہیں۔ جبکہ غیر جانبدار مبصرین امریکہ اور مغربی ممالک کے ترکی سے اختلافات کا ذمہ دار خود اس امریکہ کو قرار دیتے ہیں ، جس نے پیٹریاٹ ڈیفنس سسٹم ڈیل میں تذبذب غالباً ترکی سے تنازعہ شروع کرنے کی حکمت عملی کے تحت کیا تھا۔
۔
  امریکہ اور مغربی اتحادیوں کا ترکی کا بھارتی ریاستی دہشت گردی کا شکار کشمیری اور اسرائیلی مظالم کا شکار فلسطینی مسلمانوں کی حمایت میں گرجنا قبول نہیں ہے۔ اور مستقبل میں چین ، روس، ترکی اور پاکستان کا ممکنہ اتحادی بلاک امریکی تاجداری اور مغربی اجارہ داری کیلئے ایک ڈراؤنا خواب ہے۔ کورونا بحران میں عالمی چوہدراہٹ پر گرفت کھوتے ہوئے امریکہ اور اس کے معاشی بدحالی کا شکار مغربی اتحادیوں یا بھارتی مفادات اور دہشت گردی کے حلیف ایران کیلئے ایک مسلمان ملک ترکی کا جنگی قوت بن کر ابھرنا ناقابل برداشت امر ہے۔
۔
تحریر : فاروق درویش

DEFENCE ARTICLES

جے ایف - 17 کے جدید ورژن بلاک 3  میں فضا سے فضا میں مار کرنے والے...
In this March , Pakistan conducted a successful flight test of the Shaheen 1-A, a medium range...

Leave a Reply

DEFENCE NEWS

OUR INSTAGRAM

DEFENCE BLOG

OUR GULF ASIA NEWS SITE

GULF ASIA NEWS

Leave a Reply