پاکستان آرمی کا میڈ ان پاکستان الضرار مین بیٹل ٹینک

پاکستانی ڈیفنس انجینیروں کی مہارت کا نتیجہ ، میدانی ، دلدلی اور ریگستانی علاقوں کیلئے ایک اعلی جنگی صلاحتوں کے حامل الضرار ٹینک کی صورت میں دراصل چینی ساختہ ٹائپ 59 ٹینک کا جدید پاکستانی ورژن ہے

اسی کی دہائی میں پاکستانی فوج نے چینی ٹائپ 59 ٹینکوں کی اپ گریڈنگ کیلئے کام شروع کیا۔ اس حوالے سے فیصلہ کیا گئا کہ ان ٹینکوں کی باڈی اور چیسز میں نئے طاقتور انجن اور جدید الکیٹرو آلات نصب کر کے ایک نئے اور جدید ٹینک کی شکل دی جائے۔ پاکستانی ڈیفنس انجینیروں کی مہارت کا نتیجہ ، میدانی ، دلدلی اور ریگستانی علاقوں کیلئے ایک اعلی جنگی صلاحتوں کے حامل الضرار ٹینک کی صورت میں دراصل چینی ساختہ ٹائپ 59 ٹینک کا جدید پاکستانی ورژن ہے، جسے اب ڈیوٹی انڈسٹریز ٹیکسلا میں تیار کیا جاتا ہے

ڈیزائن

ٹائپ 59 ٹینک کی اپ گریڈنگ سے اسے ایک جدید ٹینک میں ڈھالنے کا پروگرام 54 ترامیم پر مشتمل تھا۔ جس کا مقصد بہترفائر پاورتیزنقل و حرکت اور مظبوط تحفظ کا نظام بہتر بنانا تھا۔ اس حوالے سے پہلا اپ گریڈ پروگرام 1997ء میں ہیوی ڈیوٹی انڈسٹری ٹیکسلا میں مکمل ہوا ، جبکہ دوسرا حصہ الخالد کی خصوصیات کی بنیاد پر زیادہ وسیع جدید کاری کے ساتھ مکمل کیا گیا ۔ اور فروری 2000ء میں ضرار ٹینکوں کی پہلی کھیپ پاک فوج کے حوالے کر دی گئی۔

نقل و حرکت

نیا پاور پلانٹ 12 ہارس پاور کا 520 سلنڈر ڈیزل انجن ہے ، جو 730 ایچ پی آؤٹ پٹ یا 540 کلو واٹ پیدا کرتا ہے۔ اور ایک ٹارک آؤٹ پٹ 305 کلو میٹر فی منٹ کے حساب سے  1300–1400 کی شرح سے تیار کرتا ہے۔ الضرار ٹینک کا مجموعی جنگی وزن 40 ٹن اور رفتار 65 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔

فائر پاور

الضرار کا سب سے قابل ذکر اثاثہ اس کا 125 ملی میٹر آٹوفریٹیجیدڈ ، کروم پلیٹڈ گن بیرل ہے ۔ گولہ بارود میں اے پی ایف ایس ڈی ایس ، ہیٹ – ایف ایس اور ایچ ای ایف ایس راؤنڈز ، اے ٹی جی ایم کے علاوہ پاکستانی ڈی یورینیم راؤنڈ نائزہ شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ ایک نیم خودکار آٹولوڈر بھی نصب  ہے۔ مرکزی گن ڈبل محور مستحکم اور کمانڈر اور گنر کیلئے تھرمل امیجنگ سائٹس استعمال کرتی ہے۔

کمپیوٹرائزڈ امیج اسٹیبلائزیشن کے ساتھ ایک جدید فائر کنٹرول سسٹم بھی ہے۔  جس میں ایک لیزر رینج تلاش کرنے والا کمپیوٹرائزڈ نظام ، نیویگیشن سسٹم ، اور سینسرز کے ذریعہ فراہم کردہ ڈیٹا سسٹم شامل ہے۔ جو مرکزی گن کو بہتر کنٹرول کرنے میں مدد دیتا ہے ۔ لوڈر کے ہیچ کے قریب چھت پر نصب 7 ملی میٹر ہیوی اینٹی ایرکرافٹ مشین گن ٹینک کے اندر سے فائر کیلئے ایک ریموٹ کنٹرول سے لیس ہے۔ جس کے ساتھ ایک سماکشیی 7.62 ملی میٹر کی خودکار مشین گن بھی ہے۔

تحفظ

بنیادی ہل کے باہر ایک ماڈیولر ایڈونٹ جامع کوچ ، اینٹی مائن آرمر اور دھماکہ خیز رد عمل کو بلاک کرنے کا نظام موجود ہے ۔ اے ٹی ایم اور آر پی جی عملے کو بروقت آگاہ کرنے کیلئے مقامی طور پر بنایا ہوا خطرے کا انتباہی لیزر نظام موجود ہے جس میں ٹینک لیزر رینج تلاش کرنے والے ڈیزائنر بیم کے ذریعہ ہے بصری اہداف حاصل کرنے والے آلات کے خلاف دفاع و بقا کی صلاحیت کو بہتر بنانے کیلئے برج کے اطراف میں دھواں دار دستی بم لانچر لگائے گئے ہیں۔ انجن کے کور میں اس نظام کے علاوہ عملے کے کیبنٹ میں بھی آگ بجھانے اور دھماکے دبانے کا نظام موجود ہے۔

پاکستان ساختہ الخالد ٹینک کے بارے میرا یہ مضمون بھی پڑھیں

پاکستان کا الخالد ٹینک تباہ کن اٹیک اور جدید ترین ڈیفنس سسٹم کا زبردست امتزاج

الضرار ٹینک کی خصوصیات

Firepower

Main Gun125mm, Smoothbore
Secondary Weaponsx1 coaxial 7.62mm MG, x1 12.7mm MG
Other WeaponsOne roof-mounted AA 12.7 mm (0.5 in) remote firing HMG

Mobility

EngineVR-36 series 730hp Diesel
Top Road SpeedRoad 60 km/h , Cross County 45 km/h
Road Range580 km
Dimensions
Weight37,000kg aka 37 tons combat
6,04 (hull) x 3,27 x 2,59 m (19.8 x 10.7 x 8.6 ft)

Protection

NBC ProtectedYes
Armor TypeSteel/Modular/Spaced/Explosive Reactive (ERA)
Active Protection SystemsYes – Laser Warning
Crew4 (commander, driver, gunner, loader).

 

تحریر : فاروق رشید بٹ

پاکستان کے جدید ٹینک الخالد 2 کے بارے میرا یہ مضمون بھی پڑھیں

پاکستان کا نیا ٹینک ۔ الخالد – 2 ، ترکی ساختہ الیکٹرانکس اور آپٹیکل سینسرز سسٹم کے ساتھ

DEFENCE ARTICLES

بی جے پی راہنما راجیشور سنگھ کا کہنا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے مطابق 2021 تک...
دنیا کے جدید ترین طیاروں سے لیس ہندوستانی فضائیہ طیاروں اور عملے کی تعداد کے اعتبار سے...
مل ماسکو ہیلی کاپٹر پلانٹ روس کا تیار کردہ ایم آئی ۔ 35 ایم ملٹی رول اٹیک...
اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ نے 23 فروری 1987ء کو یہ انکشاف شائع کیا کہ اسرائیل نے پاکستانی...
نیٹو کی جنگی مشقوں کے علاوہ ایف 16 اور رافیل جیٹس کبھی کسی بھی فضائی لڑائی میں...
سنہ 1953ء میں پاک فوج میں امریکن آرمی کی مدد سے پہلا ایلیٹ کمانڈو یونٹ تشکیل دیا...

Leave a Reply

DEFENCE NEWS

OUR INSTAGRAM

DEFENCE BLOG

OUR GULF ASIA NEWS SITE

GULF ASIA NEWS

Leave a Reply