افغانستان نے ایران امریکہ جنگ کے شعلوں میں امن کی متلاشی دنیا کو درپیش مسائل کو نظرانداز کر کے پاکستان کے شہری علاقوں پر ڈرون حملوں کی جارحیت کا آغاز کیا ہے ۔ جس کے بعد پاکستان نے افغان طالبان رجیم اور ان کے حلیف انڈین پراکسی دہشت گرد گروپس کو آخری سبق سکھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ پاکستان سمجھتا ہے کہ اب بھارت کی کٹھ پتلی افغان حکومت اور دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہی پاکستان کی سلامتی اور خطے میں امن کی حتمی شرط ہے۔
پاکستان کی مسلح افواج نے کابل ، قندھار اور پکتیکا میں بھارتی پراکسی دہشت گردی کے اہم مراکز کو نشانہ بناتے ہوئے تباہ کن اسٹریٹجک کارروائیاں کی ہیں۔ ان ائر سٹرائیکس میں افغانستان کے فوجی ہیڈکوارٹر، دہشت گردوں کی پناہ گاہوں، تیل کے ذخائر ، اسلحہ کے ڈپوؤں اور اہم دفاعی تنصیبات کو تباہ کر دیا گیا ہے۔
پاکستان نے افغانستان میں تحریک طالبان پاکستان، فتنہ الخوارج اور طالبان کی تنصیبات کے ٹھکانوں پر بھاری بمباری کے حملے کئے ہیں۔ رپورٹس مطابق قندھار میں 205 ویں البدر کور ہیڈکوارٹر کو نمایاں نقصان پہنچا ہے۔ ان حملوں کا مرکز کابل، قندھار اور پکتیکا صوبوں کے وہ اہم مقامات تھے۔ جن میں عسکریت پسندوں کے کیمپوں، تیل ذخیرہ کرنے کے مراکز، تربیتی مراکز، اور کالعدم ٹی ٹی پی اور اس سے منسلک دہشت گروپس کے لاجسٹک سیلز شامل تھے۔
اس فوجی کارروائی کا پس منظر برسوں سے جاری سرحدی کشیدگی اور افغان سرزمین سے فعال مختلف عسکریت پسند گروپوں کی امن دشمن کاروائیاں ہیں ۔ پاکستان کا خیال ہے کہ بھارت کی سہولت کاری سے سرگرم ہونے والے ان عسکریت پسند دھڑوں کے خلاف افغان حکومت کے نرم رویہ نے ان کی حوصلہ افزائی کی ہے، جس کے نتیجے میں دہشت گردی کے فروغ کے ساتھ عدم تحفظ کا ماحول پیدا ہوا ہے۔
پاکستان کی فوجی کارروائیوں کا مقصد افغانستان کے اندر دہشت گردوں کی جانب سے بنائے گئے انفراسٹرکچر کو ختم کرنا ہے، جو پاکستانی سرزمین پر دہشت گرد حملوں اور امن شکنی کا باعث بنتا ہے۔ ان کاروائیوں کے ذریعے پاکستان افغان قیادت کو ایک مضبوط پیغام کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی ذمہ داریاں یاد دلانا چاہتا ہے۔ جبکہ طالبان حکومت ان تمام حالات کو نظر انداز کر کے دہشت گردوں کی سہولت کاری کی مرتکب ہو رہی ہے
پاکستان کی حالیہ فوجی کارروائیاں محض جارحیت کی روک تھام کیلئے نہیں ہیں۔ بلکہ دہشت گردی روکنے کی مسلسل گزارشات کے باوجود افغان حکومت کی طرف سے امن کے قیام کے پاکستانی مطالبات کو انتہائی ڈھٹائی سے نظر انداز کرنے کا ردعمل ہے۔ پاکستان نے ان حملوں کی صورت میں افغان حکومت کو یہ کھلا پیغام دیا ہے کہ اب افغان طالبان کی حکومت کا خاتمہ اور ان کے زیر سایہ پروان چڑھنے والی بھارتی پراکسی دہشت گردی کے اختتام تک پاکستان کی طرف سے اپنی سلامتی کیلئے تباہ کن حملے مسلسل جاری رہیں گے۔
پاکستان کے مطابق بھارتی ڈکٹیشن کی غلام افغان حکومت ان حقائق اور ہر نازک صورتحال کو یکسر نظر انداز کرتی رہی ہے۔ افغانستان کے اقتدار پر غیر قانونی قابص افغان طالبان حکومت بھی بہت جلد اس حقیقت سے روشناس ہو گی بھارتی اشاروں پر ناچننے والے کٹھ پتلی گروہوں اور انسانیت کے دشمن دہشت گردوں کا ہولناک انجام زمانے کیلئے عبرت انگیز ہو گا۔
فاروق رشید بٹ
افغان دہشت گرد مراکز پر حملے انڈین پراکسی گروپس اور سہولت کاروں کے خاتمے تک جاری رہیں گے


