Sunday, October 24, 2021

پی کے ۔ 15، جے ایف ۔ 17 اور الخالد سے ففتھ جنریشن سٹیلتھ فائٹر پراجیکٹ عزم تک

پاکستانی جنگی طیاروں کی عالمی منڈی میں فروخت سے منافع کی بدولت طیارہ سازی کا ترقی پذیر شعبہ اب فائٹر جیٹ پروڈکشن کے نئے پروگرام " پراجیکٹ عزم" کے ساتھ ففتھ جنریشن سٹیلتھ ٹیکنالوجی دور میں داخل ہو رہا ہے۔

عالمی دفاعی مبصرین کے مطابق پی کے 15 اسالٹ رائفل سے الخالد ٹینک اور جے ایف 17 تھنڈر تک پاکستان کی دفاعی پروڈکشن تیزی سے خود کفالت کی طرف گامزن ہے۔ بارہ سال کے قلیل عرصہ میں چین کے اشتراک سے جنگی طیارہ سازی کے پروگرام کی شروعات سے جے ایف 17 تھنڈر بلاک 3 کی پاکستان میں مکمل تیاری تک کا کامیاب سفر دنیا کیلئے حیرت اور دشمنوں کیلئے ہیبت انگیز ہے۔
 
دنیا بھر کے جنگی فضائی مظاہروں میں جے ایف 17 تھنڈر کی صلاحتیوں کا طوطی بول رہا ہے۔ ملائشیا ، برما اور نائجیریا جیسے ترقی پذیر ممالک میں پاکستانی تھنڈر طیاروں کی مانگ بڑھ رہی ہے ۔ جبکہ بھارت کی تیس سالہ ناکام پلاننگ کا ناکام نتیجہ تیجاس طیارہ عالمی منڈی میں ایک مسترد اور فلاپ پراڈکٹ بن کر رہ گیا ہے۔
 
آج افواج پاکستان کی جرمن نژاد جی 3 اسالٹ رائفل اور پاکستانی انجینئرز کی ڈیزائن کردہ پی کے 15 اسالٹ رائفل سے لیکر آٹومیٹک کلاس کی لائٹ مشین گن اور ہیوی مشین گن تک پاکستان کی واہ آرڈیننس فیکٹری میں تیار ہو کر انٹرنیشنل مارکیٹ میں دوسرے ممالک کی آرمڈ فورسز کے استعمال کیلئے ایکسپورٹ ہو رہی ہیں ۔
 
جبکہ خود بھارت کے اپنے صحافی راہل بیدی اور غزالہ وہاب لکھتے ہیں کہ انڈیا نے 20 سالہ کاروائی کے بعد ایک انساس رائفل بنائی لیکن ٹوٹل فلاپ ہوئی۔ بھارتی فوج نے اسے کئی شکایات کے ساتھ مسترد کر دیا۔ اس رائفل کو نیپال نے خریدا اور ناٹ وانٹڈ کا تمغہ لگا کر واپس کر دیا۔ پھر نو سال بعد 2019 میں امیٹھی اتر پردیش میں روسی شراکت سے نئی اسالٹ رائفل فیکٹری کا نریندر مودی نے افتتاح کیا۔ لیکن ابھی تک روس کے ساتھ معاہدہ مکمل نہ ہونے کے باعث وہ فیکٹری بند پڑی ہے۔
سنہ 2009 میں جنوبی امریکہ کے ملک ایکواڈور نے بھارت کے تیارکردہ 8 دھروو ہیلی کاپٹر خریدے۔ لیکن شومئی قسمت کہ سیلف کریش ماسٹر بھارت کے تیارہ کردہ ان ناکارہ ہیلی کاپٹروں میں سے چار گر کر تباہ ہو گئے اور باقی کے چار معاہدہ منسوخ کر کے بھارت واپس بھیج دیے گیے۔
 
پاکستان صرف جے ایف 17 تھنڈر ملٹی رول فائٹر جیٹ ہی نہیں بلکہ سپر مشاق اور قراقرم 8 جیسے کامیاب جنگی تربیتی طیارے بھی بنا کر ترکی مصر ملائشیا برما زمبابوے نائجیریا اور دیگر ترقی پذیر ممالک کو فروخت کر رہا ہے۔ جس سے حاصل کردہ منافع کی بدولت پاکستانی طیارہ سازی کا ترقی پذیر شعبہ اب طیارہ سازی کے نئے پروگرام ” پراجیکٹ عزم ” کے ساتھ ففتھ جنریشن سٹیلتھ ٹیکنالوجی دور میں داخل ہو رہا ہے۔

ایف 16 فالکن اور رافیل فائٹر کے بارے میرا یہ آرٹیکل بھی پڑھں

نیسکوم پاکستان میں بنائے گئے بنا پائلٹ کے جنگی ڈرون طیارے براق ، سیلیکس کے فالکوم ، جی آئی ڈی ایس کے شاہ پر اور جاسوس جیسے ڈرون طیاروں کی کامیاب پروڈکشن سے دنیا محو حیرت ہے

 
پاکستان نے اپنے ملک میں اپنی ضروریات کے مطابق الخالد اور الضرار جیسے جدید مین بیٹل ٹینک بنا کر راجھستان جیسے صحرائی اور دلدلی سیکٹرز میں بھارتی آرمڈ فورسز کی دیرینہ برتری کا پانسہ پلٹ کر رکھ دیا ہے۔ اب صرف مین بیٹل ٹینک ہی نہیں طلحہ ، سکب اور ال قصویٰ جیسی جدید بکتر بند گاڑیوں کی کامیاب پروڈکشن بھی پاکستان میں جاری ہے۔
قوم کو فخر ہے کہ اب ہم بکتر شکن جیسے انٹی ٹینک گائیڈڈ راکٹ لانچر سسٹم ، برق اور انزہ جیسے لائٹ ویٹ انٹی ائرکرافٹ اور ائر ٹو گراؤنڈ ویپن بھی خود پاکستان ہی میں تیار کر رہے ہیں۔ جبکہ سرحد کے دوسری طرف بھارت کا تیار کردہ ارجن ٹینک کو خود بھارتی دفاعی مبصرین کی کڑی تنقید اور فوج کی طرف سے وزن کی زیادتی اور دیگر تکنیکی شکایات کا سامنا ہے

بھارتی میڈیا اور دفاعی اداروں نے فرانس سے خاصل کردہ دنیا کے مہنگے ترین رافیل طیاروں کی خریداری کے بعد آسمان یوں سر پر اٹھا رکھا ہے کہ گویا بھارت نے چین کو شکست دیکر سارا لداخ فتح کر لیا ہے۔

 
یہ الگ بحث ہے کہ امریکی ایف 16 ای سے پانچ گنا اور جے ایف 17 تھنڈر سے دس گنا مہنگی قیمت میں تقریباً ان دونوں طیاروں جیسا ہی 4.5 جنریشن رافیل طیارہ خریدنے کے سلسلے میں نریندر مودی سرکار کو کمیشن کرپشن کے سنگین الزامات کا سامنا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ رافیل طیاروں کو انڈین ائر فورس کے سسٹم میں ایڈجسٹ ہونے میں ابھی ایک سال درکار ہو گا۔ اور قابل توجہ امر یہ کہ رافیل طیاروں کی مینٹینس، اوورہالنگ، مرمت یا اپ گریڈنگ کیلئے بھارت ہمیشہ کیلئے فرانس کا محتاج رہے گا۔
پاکستانی اور بھارتی فضائیہ میں اصل فرق طیاروں کا نہیں طیارے اڑانے والوں کا ہے۔ میڈ ان فرانس رافیل اور میڈ ان پاکستان جے ایف 17 تھنڈر والوں میں ایک واضع فرق یہ بھی ہے کہ وہ طیارہ گروا کر چائے کی تعریف کرنے والے ابھینندن کو ایوارڈ دیتے ہیں اور ہم دشمن کا طیارہ گرا کر سجدہء شکر بجا لانے والے ونگ کمانڈر حسن صدیقی اور ونگ کمانڈر نعمان علی خان جیسے شاہینوں کے سینوں پر شجاعت اور بہادری کے تمغے سجاتے ہیں

تحقیق و تحریر : فاروق رشید بٹ

پاک بھارت جنگی تنازعات کے حوالے سے میرا یہ کالم بھی پڑھئے

بھارتی براس ٹیک سے ایٹمی میزائیل ، جے ایف 17 تھنڈر اور الخالد ٹینک تک

DEFENCE ARTICLES

جے ایف - 17 کے جدید ورژن بلاک 3  میں فضا سے فضا میں مار کرنے والے...
In this March , Pakistan conducted a successful flight test of the Shaheen 1-A, a medium range...

1 COMMENT

Leave a Reply

DEFENCE NEWS

DEFENCE BLOG

OUR GULF ASIA NEWS SITE

GULF ASIA NEWS

1 COMMENT

Leave a Reply