پاکستان کے ایٹمی اسلحہ بردار زمینی ، بحری اور فضائی کروز میزائیل

کروز میزائل جیٹ انجن اور ایروڈائنامک لفٹ کے سہارے پرواز کرنے والا ایسا بغیر پائلٹ ہتھیار بردار ڈرون ہے جسے دور دراز کے اہداف...

پاکستان کے ٹیکٹیکل ایٹمی ہتھیار حتف اور نصر بھارتی جارحیت کیلئے سڈن ڈیتھ

چین کے ہاتھوں بھارت کی حالیہ شکستوں کے بعد لداخ کی ہمالیائی سرحدوں کا تناؤ بتدریج اروناچل پردیش ، سکم اور اتر اکھنڈ  تک...

پاک فضائیہ کے پاکستان میراج ری بلڈ فیکٹری میں اپ گریڈڈ میراج لڑاکا طیارے

پاک فضائیہ کا ملٹی رول فائٹر جیٹ میراج 3 اور 5 ورژن پچاس سال پرانا ہونے کے باعث کم اہمیت کا حامل سمجھا جاتا...

پی کے ۔ 15، جے ایف ۔ 17 اور الخالد سے ففتھ جنریشن سٹیلتھ پراجیکٹ عزم تک

عالمی دفاعی مبصرین کے مطابق پی کے 15 اسالٹ رائفل سے الخالد ٹینک اور جے ایف 17 تھنڈر تک پاکستان کی دفاعی پروڈکشن تیزی...

پاکستان ائرفورس کا تربیتی جیٹ اور شیر دل کا ایروبیٹکس طیارہ قراقرم ۔ 8

پاکستان ائر فورس میں فائٹرپائلٹس کی ٹریننگ کیلئے استعمال کیا جانے والا پاکستانی قراقرم ۔ 8 یا کے ۔ 8 پی ایک انٹرمیڈیٹ ٹرینر...

پاکستان کا الخالد ٹینک تباہ کن اٹیک اور جدید ترین ڈیفنس سسٹم کا زبردست امتزاج

الخالد ٹینک پاکستان آرمی کے زیر سروس ایسا جدید مین بیٹل ٹینک ہے، جسے ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا نے پاکستان میں تیار کیا ہے۔ الخالد...

بھارتی براس ٹیک سے ایٹمی میزائیل ، جے ایف 17 تھنڈر اور الخالد ٹینک تک

اور پھر 1998ء میں ایٹمی دھماکوں کے بعد سب کچھ ہی بدل چکا ہے۔ ایٹمی ہتھیاروں کیلئے پاک فضائیہ کے شاہین، غوری ، حتف ، رعد اور بابر جیسے تباہ کن میزائل قطار در قطار ہمہ وقت تیار اور فوج ہوشیار ہے

- Advertisement -
کسی ملک کی عسکری طاقت اور ایٹمی سٹیٹس اس کے فوجی کمانڈ اینڈ کنٹرول ، معاشی نظام کی کامیابی، ایٹمی ہتھیاروں کی خصوصیات اور انہیں چلانے کی صلاحیتوں سے مل کر وضع ہوتے ہیں۔ کسی ملک کا ایٹمی نظریہ اس کی ایٹمی قوت کے بارے ریاست کا اعلانیہ موقف ہوتا ہے۔ البتہ جوہری سٹیٹس کئی طرح کے ہو سکتے ہیں ۔ جیسے کہ کوئی ریاست ایٹمی تجربہ کے بعد ایٹمی ہتھیار بنا چکی ہو یا خفیہ طور پر ایٹمی ہتھیار بنا چکی ہو لیکن اس کا اعلان نہ کیا ہو یا پھر ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کیلئے خفیہ کام کر رہی ہو۔
 
عالمی دفاعی مبصر وپین نارنگ نے ریاست کے غیراعلانیہ یا خفیہ ایٹمی صلاحیت کیلئے ” کیٹالیٹک ” کی اصطلاح مرتب کی ہے۔ گویا 74ء سے 98ء تک پاکستان کا ایٹمی سٹیٹس ” کیٹالیٹک” ہی تھا ۔ مغربی ممالک اور پاکستان کی اتحادی سپر پاور کو ہمیشہ یہ شکوک رہے کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام جنگی بنیادوں پر چل رہا ہے۔ جبکہ پاکستان اپنی سلامتی کو درپیش بھارتی خطرات کے باعث خاموشی سے اپنی منزل کی طرف گامزان رہا۔
 
سنہ 71ء کی جنگ کے بعد پاکستان کی اسٹریٹجک پلاننگ میں نمایاں تبدیلی آئی۔ سقوط مشرقی پاکستان کے وقت بین الاقوامی برادری کی بے وفا خاموشی نے پاکستانی گورننگ اپریٹس کو یہ شدید احساس دلایا کہ اب عالمی طاقتوں کے سیکیورٹی وعدوں پر انحصار کرنا خود کشی ہو گا۔ ملکی سلامتی کیلئے ہر حال میں ایٹمی صلاحیت حاصل کرنا ہی تحفظ کی واحد ضمانت ہو گی۔ 74 ء میں بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے بعد بھارتی عزائم کھل کر بینقاب ہو گئے۔ اورجنرل ضیا الحق کے دور میں پاکستان ایٹمی صلاحیت کے حصول کیلئے مزید متحرک ہو گیا۔
 
جوہری ہتھیاروں کیلئے پاکستان نے ڈبل پلیٹ فارم حکمت عملی اختیار کی۔ ایک وہ پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن قائم کیا جس نے پلوٹونیم ری پروسیسنگ پر کام شروع رکھا اور دوسرا کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز کا ادارہ جس نے ان ہتھیاروں کی پیداوار کیلئے یورینیم کی افزودگی کا شعبہ سنبھالا ۔ اس کامیاب پلاننگ نے پاکستان کو بیک وقت ایٹمی ہتھیاروں اور ان کیلے میزائیلوں کی تیاری کی طرف برق رفتار اور پرعزم سفر کو رکنے نہیں دیا۔
 
سنہ 86 میں بھارت ملٹی فیز براس ٹیک فوجی مشقوں کی اڑ میں راجستھان اور پنجاب کی سرحدوں پر نو ڈویژن فوج کے ساتھ متحرک ہوا۔ اس دور میں خالصتان تحریک اپنے عروج پر تھی۔ اور بھارت سرحدوں پر دباؤ سے پاکستان کو سکھوں کی حمایت سے روکنا چاہتا تھا ۔ بھارتی فوج 26 بکتر بند رجمنٹ تیار کر چکی تھی اور پاکستان کے مقابلے میں اس کا عددی تناسب 2 : 1 کا تھا۔ بھارت کا اہم ہتھیار روسی ٹی 75 ایم ٹینک تھا جو پاکستانی ٹینکوں سے کہیں طاقتور تھا۔
 
گو کہ پاک فوج کے پاس امریکی ٹینک شکن ہتھیار اور ہیوی فائر پاور تھی لیکن مغربی محاذ پر روس کیخلاف جاری جنگ کی وجہ سے بیک وقت مشرقی محاذ پر بھارت سے جنگ پاکستان کیخلاف جاتی تھی۔ پاکستان فضائیہ کے پاس اس وقت کے جدید ترین جنگی طیارے ایف 16 تھے۔ لیکن بھارت نے ان کیلئے فرانس سے میرج – 2000 ایچ اور روس سے مگ 29 فلکرم حاصل کر لیے تھے۔
 

براس ٹیک فوجی مشقوں کے دوران بھارتی آرمی چیف جنرل کے سندرجی حکومتی احکام سے بھی اگے بڑھ رہے تھے۔ جو ان مشقوں کے خفیہ مقاصد کے بارے شکوک و ابہام اور بڑھا رہے تھے۔ بعد میں بھارتی مغربی کمانڈ کے سربراہ جنرل پی این این نے بھی یہ اعتراف کیا تھا براس ٹیک فوجی مشقیں دراصل پاکستان کے ساتھ چوتھی جنگ شروع کرنے کا منصوبہ تھا۔

ایک طرف روس اس کیخلاف لڑنے والے پاکستان کو بھارت کے ہاتھوں زچ کروانے کیلئے اور دوسری طرف امریکہ اپنے اتحادی پاکستان کو بچانے کیلئے سرگرم تھا۔ پاکستان کیلئے دستیاب اختیارات انتہائی محدود اور پیچیدہ تھے۔ ایک طرف جنرل ضیاء الحق کو امریکہ سے ان وعدوں کی پاسداری کرنا تھی کہ پاکستان ایٹمی ہتھیار نہیں بنائے گا۔ جبکہ دوسری طرف بھارتی جارحیت روکنے کیلئے ایٹمی ہتھیار ” ناؤ آر نیور” کی حد تک ضروری تھے۔
 
اگرچہ مارچ 84ء میں پاکستان اںامک انرجی کمیشن اور کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز نے ایٹمی ہتھیاروں کا ابتدائی تجربہ کر لیا تھا۔ لیکن ایٹمی ہتھیار فائر کرنے کیلئے کوئی ڈیلیوری سسٹم یعنی میزائیل یا طیارے نہیں تھے۔ یہ ایٹمی ہتھیار پاک فضائیہ کے سی – 130 کے ذریعے گرائے جا سکتے تھے لیکن یہ طیارہ بھارتی طیاروں اور ایئر ڈیفنس سسٹم کا آسان نشانہ بن سکتا تھا۔
 
براس ٹیک بحران کے عروج کے اس نازک وقت پاکستان کے غیر اعلانیہ ایٹمی ہتھیاروں کی بلاسٹنگ صلاحیت بھی غیر یقینی تھی۔ اس صورت حال میں پاکستانی قیادت کو یہ بھی سخت تشویش تھی کہ بھارت براس ٹیک مشقوں کی آڑ میں جنگ شروع کرنے کی عیاری کر سکتا تھا ۔ دفاعی تھنک ٹینک کو خدشات تھے کہ بھارت کی طرف سے پاکستان کے کہوٹہ ایٹمی پلانٹ پر اسرائیل کے عراقی ایٹمی پلانٹ پر حملے کی طرح کا کوئی تباہ کن اٹیک بھی ہو سکتا ہے۔
۔

Brasstacks crisis January 1986
براس ٹیک جنگی مشقوں کی آڑ میں جنوری 1986 کے شروع میں بھارتی فوج صرف راجھستان تک محدود تھی اور پھر 23 جنوری تک بھارتی فوجوں کا راجھستان سے آزاد کشمیر سرحد تک پھیل جانا بھارت کے جارحانہ خفیہ عزائم کی نشان دہی کرتا تھا

دنیا کی جنگی تاریخ گواہ ہے کہ ریاستی مفادات کیلئے گزرے ہوئے کل کے حریف آنے والے کل میں حلیف بھی بن سکتے ہیں۔ چونکہ اس وقت امریکہ کو روس کیخلاف پاکستانی افواج کی اشد ضرورت تھی لہذا براس ٹیک بحران میں پاکستان کی کمزور پوزیشن نے امریکہ کو اس بحران کے خاتمے کیلئے ہر انتہائی مداخلت پر مجبور کردیا۔ امریکہ نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے بارے بین الاقوامی تحفظات کے باوجود اسے بھارتی خطرات سے محفوظ رکھنے کی حکمت عملی اپنائے رکھی ۔
 
بہر حال امریکی سفارتی کوششوں اور جنرل ضیاء الحق کی کرکٹ ڈپلومیسی کے مشترکہ اثرات سے بالآخر وہ بحران ختم ہوا جو جنوری 87 ء میں اپنے عروج پر تھا۔ امریکی سفیر جان ڈین کو یہ ذمہ داری سونپی گئی تھی کہ وہ سرحد کے دونوں اطراف سے فوجوں کو منظم طریقے سے ہٹانے کیلئے ناظم کی حیثیت سے کام کریں۔
 
براس ٹیک بحران دراصل پاکستان کے اسٹریٹجک فریم ورک کا پہلا پہلا ہاٹ ٹیسٹ اور ایک سبق آموز تجربہ تھا۔ اس آزمائش میں پاکستانی قیادت اور دفاعی تھنک ٹینک کی طرف سے ایٹمی پروگرام بچانے کیلئے ڈپلومیسی، اسے تکمیل تک پہنچانے کی محفوظ حکمت عملی اور سفارتی منصوبہ بندی کا امتزاج بڑا باکمال تھا ۔ اس بحران نے ہمیں سکھا دیا کہ ملکی سلامتی کیلئے خطرات میں ایٹمی قوت ہونے کے کیا معانی ہیں۔ اور ریاستی مفادات کیلئے اتحادیوں سے لابنگ یا سفارتی منصوبہ بندیاں کیا اہمیت رکھتی ہیں۔
 

براس ٹیک جنگی مشقوں کے بحران نے ایک دشمن ملک کی ایٹمی قابلیت کے مقابلے میں ایک نوزائیدہ و نامکمل ایٹمی صلاحیت کے حامل ملک کی سلامتی کیلئے سنگین خطرات کے تصور اور روایتی دفاعی ٹیکنالوجی کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔

 
براس ٹیک بحران سے سیکھے گیے سبق کا نتیجہ دنیا کے سامنے 1990ء میں کشمیر کرائسس کے دوران اس وقت سامنے آیا جب پاکستان نے ایک غیر اعلانیہ مگر مکمل صلاحیت والی ایٹمی قوت اور نیوکلیئر پے لوڈ ایبل ایکٹو میزائیل دستیاب ہونے کی وجہ سے بھارتی عزائم کو کامیابی سے روک دیا۔ حالانکہ براس ٹیک بحران میں اپنے نظریہ ضرورت کے تحت پاکستان کو بچانے کیلئے بھرپور مداخلت کرنے والا امریکہ بھی اس دوران پریسلر ترمیم ایشو تنازعہ کے باعث پاکستان کی حمایت میں کسی بھی مداخلت سے گریزاں تھا۔
اور پھر 1998ء میں اعلانیہ ایٹمی دھماکوں کے بعد سب کچھ ہی بدل چکا ہے۔ پاکستانی ایٹمی ہتھیار داغنے کیلئے پاک فضائیہ کے شاہین ، غوری ، غزنوی ، شاہین ، حتف ، رعد اور بابر جیسے تباہ کن میزائل قطار در قطار ہمہ وقت تیار اور فوج ہوشیار ہے۔ امریکہ سے ایف 16 طیاروں اور دیگر ہتھیاروں کی معاہدوں کے مطابق بروقت ڈیلیوری نہ ہونے کی بلیک میلنگ کے سبق کا نتیجہ پاکستان کی طیارہ سازی اور جدید ہتھیاروں کی پیداوار میں خود کفالت کی سنہری منزل کی جانب کامیاب سفر کی روشن نشانیاں پاکستانی جے ایف – 17 تھنڈر اور الخالد ٹینک ہیں۔
 
براس ٹیک کے اعصاب شکن بحران سے ملنے والا سبق اور پاکستانی قیادت کی امریکہ سے ایٹمی پروگرام کے بارے کامیاب ڈپلومیسی ہمارے ایٹمی پروگرام کی کامیابی کی اہم وجوہات ہیں۔ لیکن یاد رکھنا ہو گا کہ نظریہ ضرورت کے تحت اتحادی بدلنے کے ماہر امریکہ کو اس وقت افغان جنگ میں اگر پاکستان کی خدمات کی ضرورت نہ ہوتی تو شاید پاکستان کا ایٹمی پروگرام کامیابی کی منزل تک بہت دیر بعد پہنچ پاتا۔
 
دیکھا جائے تو روس کیخلاف افغان جنگ میں ہماری امریکہ کے اتحادی کی حیثیت سے بے پناہ قربانیاں مابعد بڑے خوش بخت نتائج لائیں ۔ میرے مطابق آج پاکستان کے ایٹمی طاقت ہونے کی بنیادوں میں افغان وار اور وار اگینسٹ ٹیرر میں پاکستانی فوج اورعوام کی 60 ہزار شہادتوں کا مقدس لہو بھی شامل ہے

تحریر : فاروق رشید بٹ

حوالہ مضمون : پاکستان ڈیفنس

FAROOQ RASHID BUTThttp://thefoji.com
Farooq Rashid Butt alias Farooq Darwaish is an ex banker, a defence analyst, journalist, patriotic blogger, poet and freelancer WordPress web designer. A passionate flag holder of peace of the world

DEFENCE ARTICLES

دنیا کے جدید ترین طیاروں سے لیس ہندوستانی فضائیہ طیاروں اور عملے کی تعداد کے اعتبار سے...
مل ماسکو ہیلی کاپٹر پلانٹ روس کا تیار کردہ ایم آئی ۔ 35 ایم ملٹی رول اٹیک...
اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ نے 23 فروری 1987ء کو یہ انکشاف شائع کیا کہ اسرائیل نے پاکستانی...
نیٹو کی جنگی مشقوں کے علاوہ ایف 16 اور رافیل جیٹس کبھی کسی بھی فضائی لڑائی میں...
سنہ 1953ء میں پاک فوج میں امریکن آرمی کی مدد سے پہلا ایلیٹ کمانڈو یونٹ تشکیل دیا...
پاکستان ڈیفنس ذرائع کے مطابق چین نے پاکستان کو جدید وی ٹی - 4 مین بیٹل ٹینکوں...

Comments

Leave a Reply

DEFENCE NEWS

فرانس نے پاکستانی میراج طیارے اور اوگسٹا ابدوزیں اپ گریڈ کرنے سے انکار کر دیا

پاکستانی عوام اور حکومت نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے اسلام کیخلاف متنازعہ بیانات پر کڑی تنقید کی ہے۔ حکومت نے عوام کی طرف...

شکست خوردہ آرمینی فوج نے کاراباخ چھوڑتے ہوئے گھر ہسپتال اور جنگلات نذرِ آتش کر دیے

روس کی مداخلت اور ثالثی میں آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان طے پانے والے جنگ بندی کے سمجھوتے کے مطابق شکست خوردہ آرمینی مقبوضہ...

آذربائیجان جنگ کے ہیرو ٹی بی 2 ترک ڈرون اور پاک ترک دوستی سے خوف زدہ بھارت

دنیا کے جدید اسلحہ ساز حیرت زدہ تھے جب آذربائیجان کے ڈرون حملوں نے آرمینی دفاع کو مکمل تباہ و برباد کر کے اسے...

امریکی ایف 22 ریپٹر ، چینی جے 20 اور روسی ایس یو 57 میں ففتھ جنریشن فضائی برتری کی دوڑ

امریکی ایف 22 ریپٹر دنیا کا پہلا ففتھ جنریشن لڑاکا طیارہ ہے۔ جو کچھ دہائیوں کیلئے فضائی برتری حاصل کر لے گا۔ 2006 میں...

DEFENCE BLOG