پاکستان کے ایٹمی اسلحہ بردار زمینی ، بحری اور فضائی کروز میزائیل

کروز میزائل جیٹ انجن اور ایروڈائنامک لفٹ کے سہارے پرواز کرنے والا ایسا بغیر پائلٹ ہتھیار بردار ڈرون ہے جسے دور دراز کے اہداف...

پاکستان کے ٹیکٹیکل ایٹمی ہتھیار حتف اور نصر بھارتی جارحیت کیلئے سڈن ڈیتھ

چین کے ہاتھوں بھارت کی حالیہ شکستوں کے بعد لداخ کی ہمالیائی سرحدوں کا تناؤ بتدریج اروناچل پردیش ، سکم اور اتر اکھنڈ  تک...

پاک فضائیہ کے پاکستان میراج ری بلڈ فیکٹری میں اپ گریڈڈ میراج لڑاکا طیارے

پاک فضائیہ کا ملٹی رول فائٹر جیٹ میراج 3 اور 5 ورژن پچاس سال پرانا ہونے کے باعث کم اہمیت کا حامل سمجھا جاتا...

پی کے ۔ 15، جے ایف ۔ 17 اور الخالد سے ففتھ جنریشن سٹیلتھ پراجیکٹ عزم تک

عالمی دفاعی مبصرین کے مطابق پی کے 15 اسالٹ رائفل سے الخالد ٹینک اور جے ایف 17 تھنڈر تک پاکستان کی دفاعی پروڈکشن تیزی...

پاکستان ائرفورس کا تربیتی جیٹ اور شیر دل کا ایروبیٹکس طیارہ قراقرم ۔ 8

پاکستان ائر فورس میں فائٹرپائلٹس کی ٹریننگ کیلئے استعمال کیا جانے والا پاکستانی قراقرم ۔ 8 یا کے ۔ 8 پی ایک انٹرمیڈیٹ ٹرینر...

پاکستان کا الخالد ٹینک تباہ کن اٹیک اور جدید ترین ڈیفنس سسٹم کا زبردست امتزاج

الخالد ٹینک پاکستان آرمی کے زیر سروس ایسا جدید مین بیٹل ٹینک ہے، جسے ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا نے پاکستان میں تیار کیا ہے۔ الخالد...

آسٹریا کے یہودی خاندان میں پیدا ہونے والا پاکستان کا پہلا پاسپورٹ ہولڈر

حضرت اقبال نے محمد اسد کو ہندوستان میں مستقل قیام اور اس تحریک آزادی میں شامل ہونے پر قائل کیا جو 1947 میں ہندوستان کی تقسیم اور برطانوی راج سے آزادی کے بعد پاکستان کے قیام کا باعث بنی

- Advertisement -
محمد اسد کے نام سے عالمی شہرت حاصل کرنے والے دانش ور لیو پولڈ ویس پولینڈ کے شہر لووا کے ایک یہودی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ لیوپولڈ ویس کا شمار ان چند ایک یہودی صحافیوں میں ہوتا تھا جنہوں نے فلسطینی کاز کی کھلل کر حمایت کی۔ اور پھر وہ سعودی عرب کے بانی شاہ سعود کے قریبی دوست اور قرآن مجید کا انگریزی ترجمہ کرنے والے مسلمان مترجم بن گئے ۔
 

پاکستان کے مشہور تاریخ دان ڈاکٹر اکرام چغتائی نے عرب نیوز کو بتایا کہ محمد اسد پاکستانی شہری کی حیثیت سے پاکستانی پاسپورٹ حاصل کرنے والے پہلے شخص تھے۔

 
محمد اسد کی زندگی کی تاریخ ساز سفر 1900 میں اس وقت پولینڈ میں شامل آسٹریائی علاقوں سے شروع ہو کر پہلے فلسطین، مکہ مکرمہ ، مدینہ منورہ اور متحدہ ہندوستان سے ہوتا ہوا 1992 میں موجودہ پاکستان سے محبت کا کفن لپیٹے سپین میں ختم ہو گیا۔ 1926ء میں اسلام قبول کرنے والے محمد اسد کی زندگی کا بیشتر حصہ مشرق وسطی، متحدہ ہندوستان اور پاکستان میں گزارا ۔
 
برصغیر پاک و ہند میں ان کی دلچسپی 1920 کی دہائی کے آخر میں سعودی عرب میں قیام کے دوران شروع ہوئی ، جہاں انہوں نے ہندوستانی وفود سے ملاقاتیں کیں اور پھر شاعر مشرق علامہ اقبال رحمۃ کے نظریہء پاکستان کی کشش کی بدولت انہوں نے اقبال کی قربت میں رہنے کیلئے ادھر کا رخ اختیار کیا۔

جون 1932 میں وہ بحری جہاز کے ذریعے کراچی تشریف لائے اور وہاں سے لاہور چلے آئے ۔ جہاں انہوں نے شاعر مشرق حکیم الامت اور قیام پاکستان کے نظریاتی محرک علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ سے ملاقات کی۔

 
حضرت اقبال نے اسد کو ہندوستان میں مستقل قیام اور اس تحریک آزادی میں شامل ہونے پر قائل کیا جو 1947 میں ہندوستان کی تقسیم اور برطانوی حکومت سے آزادی کے بعد ایک نئی آزاد مملکت پاکستان کے قیام کا باعث بنی۔ حضرت اقبال نے انہیں پاکستان کی ریاست کے اسلامی بنیادوں پر آئینی اور نظریاتی مسودے کی تیاری میں مدد کیلئے راضی کر لیا۔
 
سنہ 1939 میں دوسری جنگ عظیم شروع ہوئی تو محمد اسد کا آبائی ملک آسٹریا اتحادی طاقتوں کیخلاف نازی جرمنی کا اتحادی تھا۔ اس وقت تک محمد اسد آسٹریا کے پاسپورٹ ہولڈر تھے لہذا برطانوی حکام نے اپنے دشمن ملک کا شہری ہونے کی وجہ سے انہیں گرفتار کرلیا۔ اور یوں ان کے اگلے چھ سال آسٹریا اور جمرن قیدیوں کے ساتھ برطانیہ کے زیر تسلط ایشیائی علاقوں کے قید خانوں میں گزر گئے
 
دوسری جنگ عظیم کے دوران اپنی گرفتاری اور قید کے حوالے سے محمد اسد نے 1988ء میں اسپین میں اپنے آخری گھر میں اپنی اہلیہ کے ہمراہ انٹرویو لینے والے جرمن صحافی کارل گونٹر سائمن سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ، ” میں گرفتار ہونے والوں میں ایک اکلوتا مسلمان تھا ، لہذا برطانوی فوج میں شامل مسلمان فوجیوں نے مجھے فرار ہونے میں مدد فراہم کرنا چاہی تھی ، لیکن میں نے فرار ہونے سے صاف انکار کر دیا تھا۔ .
 

بحرحال دوسری جنگ عظیم کے خاتمہ کے بعد اسن کی رہائی ہوئی ۔ اور محمد اسد نے پاکستان کیلئے ایک مسلم ریاست کا ڈھانچہ تشکیل دینے کیلئے خود کو وقف کردیا ۔ اور مسلم لیگ کی قیادت نے انہیں سعودی عرب بھیجے جانے والے سفارتی مشن میں شامل کر لیا گیا۔

تاریخی مبصر چغتائی کہتے ہیں کہ ۔ اس سفارتی مشن کی تشکیل کے وقت ، پاکستان میں کوئی سفارت خانہ نہیں تھا۔ لہذا مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں پاکستان کے اس سفارتی مشن پاکستانی حاجیوں سے متعلق تمام معاملات کی نگرانی کی تھی۔ پاکستان 1947 میں نئی تشکیل شدہ ریاست کی نمائندگی کیلئے سرکاری دورے پر محمد اسد کو سعودی عرب بھیجنا چاہتا تھا۔ لیکن ان دنوں ابھی پاکستان میں پاسپورٹ کے حوالے سے کوئی قوانین موجود نہیں تھے۔ لہذا محمد اسد کے پاس سعودی عرب کے دورے کیلئے درکار پاسپورٹ اور دیگر سفری دستاویزات نہیں تھیں۔
 
محمد اسد نے اس وقت کے وزیر اعظم خان لیاقت علی خان سے ملاقات میں پاکستانی شہریت کی درخواست کی اور لیاقت علی خان کی خصوصی ہدایت پر انہیں پاکستانی حکومت کی طرف سے جاری کیا گیا پہلا پاسپورٹ دے دیا گیا۔ اور پھر ملت اسلامیہ کا یہ عظیم سپوت 1992 میں سپین میں اپنے انتقال تک پاکستانی پاسپورٹ ہولڈر رہا ۔
 

محمد اسد کی سعودی عرب سے زندگی بھر کی والہانہ محبت اور سعودی شاہی خاندان سے رفاقت کا آغاز 1927 میں ان کے پہلے حج کے دوران مکہ مکرمہ میں سعودی حکمران شاہ عبدالعزیز ابن سعود سے ملاقات اور دوستی سے ہوا ۔

 
محمد اسد نے اسلامک انفارمیشن سروس کو اپنی زندگی کا آخری ٹیلی ویژن انٹرویو کے دوران بتایا کہ کہ شاہ عبد العزیز نے مجھے شاہی حلقہ احباب میں رہنے کی دعوت دی اور میں بغیر کسی مداخلت کے چھ سال ان کے قریبی حلقے میں رہا۔ محمد اسد کا کہنا تھا سعودی شاہ کے ساتھ قربت ان کی زندگی کا ایک حیرت انگیز تجربہ اور ایک حیرت انگیز دور تھا۔ میرے جاننے والے لوگوں میں شاہ عبدالعزیز ایک انتہائی قابل ذکر شخصیت کے حامل تھے۔
 

محمد اسد ایک طویل عرصہ تک سعودی شاہی خاندان سے قریب رہے اور ان کے معزز سعودی شاہی خاندان سے ذاتی تعلقات سعودی عرب اور پاکستان کے باہمی تعلقات مضبوط بنانے میں ہمیشہ مدد گار ثابت ہوئے ۔

 
تاریخ دان چغتائی کے مطابق محمد اسد مرتے دم تک پاکستان اور سعودی عرب میں دوستانہ تعلقات کے قیام میں پیش پیش رہے ۔ وہ سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل کے بھی بیحد قریب تھے اور ان کے شاہ عبد العزیز کے صاحبزادے شاہ فیصل مرحوم سے بھی گہرے مراسم تھے ۔
 
محمد اسد کا سب سے اہم کارنامہ ان کا قرآن حکیم کا انگریزی زبان میں ترجمہ ہے ۔ قرآن کے ترجمہ پر انہوں نے شاہ فیصل مرحوم کی ہدایات پر 1960 کی دہائی میں کام کرنا شروع کیا۔ اور 1980 میں ” قرآن کا پیغام” کے عنوان سے قرآن پاک کا جو مکمل ترجمہ اور تفسیر شائع ہوئی ، وہ قرآن پاک کے مشہور ترین انگریزی تراجم میں سے ایک ہے۔
 

اسلام ، پاکستان اور مسلم دنیا کے ساتھ ان کی محبت ایک عشق کی انتہا تھی اور ان کا اسلام سے یہ ابدی رشتہ حجاز و فلسطین سے شروع ہوا تھا۔

سنہ 2008 میں جارج میش کی ہدایت کاری میں ان کی زندگی پر ایک دستاویزی فلم ” ڈیر ویگ ناچ مکہ ” بنائی گئی تو پاکستان میں یوم آزادی کی تقریبات کی نمائش کے دوران محمد اسد کی زندگی کے بارے اس ڈاکومنٹری فلم کا ایک پوسٹر بھی آویزاں کیا گیا تھا۔
محمد اسد کو ان کے ماموں جو ایک ماہر نفسیات نے 1922 میں یروشلم کا دورہ کرنے کیلئے مدعو کیا تو انہوں نے وہیں عربی زبان سیکھی۔ اور وہ فرینکفرٹر زیتونگ کے مشرق وسطی کے نمائندہ بن گے۔ اس پلیٹ فارم پر انہوں نے صیہونیت ، برطانوی حکمرانی اور قوم پرستی کیخلاف لکھا۔
 
اسد نے آئی آئی ایس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں برملا کہا تھا کہ ، “میں صیہونیت کے نظریے سے اس سے رابطے کے پہلے ہی لمحے سے مخالف تھا۔ میں نے پہلے لمحے ہی یہ محسوس کیا تھا کہ فلسطین پر یہودی نوآبادیات کا مقصد ، عربوں کے ساتھ ظلم کرنا تھا جو انتہائی غیر اخلاقی تھا”۔
 

محمد اسد نے سنہ 1926ء میں برلن جرمنی میں متحدہ ہندوستان سے تعلق رکھنے والے مسلم کمیونٹی کے سربراہ امام عبدالجبار خیری کی موجودگی میں اسلام قبول کیا۔ اور امام خیری نے انہیں اپنا نام ” محمد اسد” رکھنے کا مشورہ دیا۔

 
اسد نے آئی آئی ایس کے ساتھ اپنے ایک انٹرویو میں امام خیری کے الفاظ دہراتے ہوئے کہا ، “اس نے کہا‘ انتظار کرو ، آپ کا نام لیوپولڈ ہے ، لیو کے معنی شیر ہیں اور اس کا عربی ترجمہ اسد ہے۔ آپ کا نام محمد اسد ہونا چاہئے اور اسی دن سے میں محمد اسد بن گیا “۔۔۔ یہ ایک خوبصورت فٹ اور با کمال جوڑ تھا، اسد کی پیدائش کے شہر کا نام لیوو ، لفظ “لیو” سے ماخوذ ہے جس کے معنی بھی شیر ہے۔ بے شک محمد اسد ملت اسلامیہ کا ایک شیر تھا ، شیر جیسی ہی زندگی گزار گیا۔

  تحریر : صائمہ شبیر ، نتالیہ لاسکوسکا

    سورس آف پبلش آرٹیکل : پاکستان ڈیفنس

شائع شدہ عرب نیوز

اردو ترجمہ : فاروق رشید بٹ

FAROOQ RASHID BUTThttp://thefoji.com
Farooq Rashid Butt alias Farooq Darwaish is an ex banker, a defence analyst, journalist, patriotic blogger, poet and freelancer WordPress web designer. A passionate flag holder of peace of the world

DEFENCE ARTICLES

بی جے پی راہنما راجیشور سنگھ کا کہنا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے مطابق 2021 تک...
دنیا کے جدید ترین طیاروں سے لیس ہندوستانی فضائیہ طیاروں اور عملے کی تعداد کے اعتبار سے...
مل ماسکو ہیلی کاپٹر پلانٹ روس کا تیار کردہ ایم آئی ۔ 35 ایم ملٹی رول اٹیک...
اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ نے 23 فروری 1987ء کو یہ انکشاف شائع کیا کہ اسرائیل نے پاکستانی...
نیٹو کی جنگی مشقوں کے علاوہ ایف 16 اور رافیل جیٹس کبھی کسی بھی فضائی لڑائی میں...
سنہ 1953ء میں پاک فوج میں امریکن آرمی کی مدد سے پہلا ایلیٹ کمانڈو یونٹ تشکیل دیا...

Comments

Leave a Reply

DEFENCE NEWS

فرانس نے پاکستانی میراج طیارے اور اوگسٹا ابدوزیں اپ گریڈ کرنے سے انکار کر دیا

پاکستانی عوام اور حکومت نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے اسلام کیخلاف متنازعہ بیانات پر کڑی تنقید کی ہے۔ حکومت نے عوام کی طرف...

شکست خوردہ آرمینی فوج نے کاراباخ چھوڑتے ہوئے گھر ہسپتال اور جنگلات نذرِ آتش کر دیے

روس کی مداخلت اور ثالثی میں آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان طے پانے والے جنگ بندی کے سمجھوتے کے مطابق شکست خوردہ آرمینی مقبوضہ...

آذربائیجان جنگ کے ہیرو ٹی بی 2 ترک ڈرون اور پاک ترک دوستی سے خوف زدہ بھارت

دنیا کے جدید اسلحہ ساز حیرت زدہ تھے جب آذربائیجان کے ڈرون حملوں نے آرمینی دفاع کو مکمل تباہ و برباد کر کے اسے...

امریکی ایف 22 ریپٹر ، چینی جے 20 اور روسی ایس یو 57 میں ففتھ جنریشن فضائی برتری کی دوڑ

امریکی ایف 22 ریپٹر دنیا کا پہلا ففتھ جنریشن لڑاکا طیارہ ہے۔ جو کچھ دہائیوں کیلئے فضائی برتری حاصل کر لے گا۔ 2006 میں...

DEFENCE BLOG