قدیم ہندو تہذیب سے مودی تک عورت پر ظلم کی کہانی اور کشمیر میں ریاستی دہشت گردی

راشٹریہ سیوک سنگھ اور بی جے پی کے آلہ کار ہندوستانی فوجی اور پولیس اہلکار کشمیری مسلمانوں کا قتل عام اور خواتین کی بے حرمتی کو اپنا مقدس مذہبی فریضہ سمجھ کر پورا کر رہے ہیں۔

آج مقبوضہ کشمیر میں غاصب بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں مسلمان خواتین کی حرمتوں کی پامالی، دراصل ہندوتوا کی قدیمی و دائمی فطرت کی عکاس ہے۔ تاریخ معاشرت گواہ ہے کہ ہندوتوا معاشرہ ازل سے عورت کے حقوق کا مجرم و قاتل رہا ہے۔  قدیم و جدید ہندو معاشرت کے حقائق یہی ہیں کہ ان کے ہاتھوں اپنی ہندو خواتین کی عزت بھی محفوظ نہیں رہی ۔ قدیم ہندو معاشرے نے عورت کی جس قدر جسمانی اور روحانی تذلیل کی تاریخ میں اس کی مثال مشکل ہے۔

مفتیء مصر ڈاکٹرعلی جمعہ لکھتے ہیں کہ قدیم ہندو تہذیب میں عورتوں کا درجہ غلاموں سے بھی بدتر تھا۔ ان کے بعض فرقوں میں بیوی بہن اور بیٹی میں کوئی فرق نہ تھا۔ ان کےعقیدے کی پلیدگی کا یہ عالم تھا کہ وہ ماں بہن یا بیٹی جیسے مقدس رشتوں سے جنسی تعلقات کوعورت کی بنیادی ضرورت پوری کرنے کا فریضہ اور ذریعہ نجات سمجھتے تھے۔

ان حقائق سے گمان ہوتا ہے کہ ہندوتوا تہذیب ہی مغرب اور سامراج کی پراگندا تہذیبوں کی ماں ہے۔ مغرب میں بہنوں بیٹیوں کے ساتھ  جنسی تعلقات کا قابل نفرت رحجان قدیم ہندو تہذیب سے ہو بہو مماثلت رکھتا ہے۔ مغرب میں قانونی طور پر ہم جنس پرستی کے بعد فیملی جنسی تعلق کی بدکاری بھی تیزی سے پھیل رہی ہے۔

قدیم ہندو ویدوں کے احکام کے مطابق عورتوں کیلئے مذہبی کتاب کو چھونا حرام تھا۔ انہیں بیوہ ہونے پر زندہ لاشیں بن کر جینے پر مجبور کر دیا جاتا تھا۔ مشہور مورخ ویسٹرمارک اپنی کتاب ” ویو آف  دی ہسٹری آف ہندو” میں لکھتا ہے  کہ اس معاشرے میں اگر کوئی عورت کسی متبرک بت کو چھو لیتی تو اس ” محترم بت ” کی الوہیت اور تقدس کو ” ختم شد ” سمجھ کر پھینک دیا جاتا تھا۔

آج مقبوضہ کشمیر میں ہندوستانی فوجیوں کے ہاتھوں مسلمان خواتین کے حقوق اور تقدس کی پامالی در حقیقت ہندوتوا معاشرے کی اس قدیم تاریخ کا تسلسل ہے جو ہمیشہ سے عورت کا مجرم رہا۔

آج ہندوستان میں آر ایس ایس کے وحشی دہشت گرد اور بی جے پی کے انتہا پسند غیر ہندوؤں کے ساتھ جو ظلم کررہے ہیں یا بھارتی فوج اور پولیس کشمیری مسلم خواتین کے ساتھ جو وحشیانہ سلوک کرتے ہیں۔  وہ صرف مذہبی دہشت گردی نہیں بلکہ بدترین ریاستی دہشت گردی بھی ہے۔ لیکن یاد رہے کہ یہ عورت کے ساتھ روا یہ ظلم و استحصال ہندوتوا کے ہاتھوں خواتین کی وحشیانہ تذلیل کا تسلسل ہے۔

تقسیم ہند کے بعد پورے ہندوستان میں غیر ہندو خواتین اور خاص طور پر کشمیر میں مسلم خواتین پر ہندوتوا کے وحشیانہ مظالم جاری ہیں۔ ریاستی دہشت گرد ہندوستانی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں انسانی حقوق کی بدترین پامالی کا شکار مسلمان خواتین ہی نہیں نابالغ بچیاں بھی ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے کشمیری خواتین پر تشدد کے بارے رپورٹس شائع کی گئیں ہیں۔

رپورٹس کے مطابق بھارتی فوج نے گذشتہ 20 سالوں سے مقبوضہ کشمیر میں ایک ہزار سے زیادہ خواتین سمیت ایک لاکھ سے زائد افراد کو شہید کیا ہے۔ ہندوستانی فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے خواتین اور کمسن لڑکیوں کے ساتھ  بد سلوکی ، تشدد اور قتل کے مجرم ہیں۔ ہندوتوا کی مذہب دہشت گردی اور بھارت کی ریاستی دہشت گردی کے ہاتھوں کشمیری خواتین بدترین جنسی تشدد کا نشانہ بن رہی ہیں۔

بھارتی قوانین کیخلاف احتجاج کے بارے یہ بھی پڑھیں

ہندوستان کسان ریلی نے دہلی کے لال قلعہ پر اپنا پرچم لہرا دیا۔ دو سکھ نوجوان ہلاک درجنوں زخمی

عامی اداروں کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ 1989 سے اب تک  23 ہزار خواتین بیوہ اور 12 ہزار سے زیادہ جنسی تشدد کا نشانہ بن چکی ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے کشمیر کے ضلع کپواڑہ کے ایک گاؤں کی 23 خواتین کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کو دنیا کے سامنے اجاگر کیا لیکن با اختیار عالمی ادارے خاموش رہے ۔ ایک نیوز سائٹ القمر کے مطابق ، بھارتی پولیس افسران نے دو سال قبل ایک آٹھ سالہ بچی آصفہ بانو کو اغوا کرکے جنسی وحشت کا نشانہ بنیا لیکن عالمی چوہدری پھر خاموش رہے۔

ساؤتھ ایشین وائر کا کہنا ہے کہ ہندوستانی فوج خواتین سے عصمت دری کو حریت پسندوں کیخلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہے۔ ہیومن رائٹس واچ رپورٹ کے مطابق زیادہ تر عصمت دریاں حریت پسندوں کی گرفتاری کیلئے محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں کے دوران ہوتیں ہیں۔ خواتین کی آبرو ریزی حریت پسند سرگرمیاں روکنے کی حکمت عملی ہے۔ ساؤتھ ایشین وائر کی رپورٹ  ہے کہ کشمیر میں عصمت دری کا انداز انتہائی مجرمانہ اور ظالمانہ ہے۔ فوجی گھروں میں داخل ہوتے ہیں تو ، وہ خواتین کی عصمت دری کرنے سے پہلے مردوں کو قتل کرتے ہیں۔

مبصر شبھ متھور نے مسلم خواتین کی عصمت دری کو کشمیر میں بھارتی فوجی حکمت عملی کا ایک لازمی عنصر قرار دیا۔ میرے مطابق اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ خواتین پر ظلم اور غیر ہندو مذاہب پر جبر دراصل ہندتوا تہذیب کی قدیم روایت ہے۔ ہندوتوا کا علمبردار نریندرا مودی کشمیر میں مظالم کے ذریعے تحریک آزادی کو دباناچاہتا ہے۔

ہندوستان میں راشٹریہ سیوک سنگھ نامی دہشت گرد تنظیم کا مشن غیر ہندو اقلیتوں خصوصا مسلمانوں کی نسل کشی ہے۔ بی جے پی انتہا پسند ہندوتوا ایجنڈے کے تحت مذہبی منافرت کے بیج بو رہی ہے۔ ان دونوں انٹی مسلم قوتوں کے آلہ کار ہندوستانی فوجی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کشمیری مسلمانوں کا قتل عام اور خواتین کی بے حرمتی کو اپنا مقدس مذہبی فریضہ سمجھ کر پورا کر رہے ہیں۔

کشمیر میں مسلمانوں پر مسلط کرب و بلا کی اس ہولناک صورت حال میں رائے عامہ کو دھوکہ دینے کیلئے ہندوتوا کے سائبر دہشت گرد فیک انڈین ویب سائٹس اور فیک نیوز کے ساتھ سوشل میڈیا پر سرگرم ہیں ۔ اور کشمیر کے مظلوم مسلمان دنیا کے انسانی حقوق اداروں اور عالمی برادری سے مدد کے منتظر ہیں۔

تحریر : فاروق رشید بٹ

مسئلہ کشمیر پر ترک صد اردوغان کی مضبوط آواز کے بارے یہ خبر بھی پڑھیں

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مسئلہ کشمیر پر صدر اردوغان کی آواز گونج اٹھی

FAROOQ RASHID BUTThttp://thefoji.com
Chief Editor of Defence Times and Gulf Asia News, a defence analyst, journalist, patriotic blogger, poet and freelancer WordPress web designer. A passionate flag holder of world peace

DEFENCE ARTICLES

جے ایف - 17 کے جدید ورژن بلاک 3  میں فضا سے فضا میں مار کرنے والے...
According to Pakistan armed forces media wing, Pakistan conducted a successful flight test of the Shaheen 1-A,...
مصدقہ دفاعی ذرائع کے مطابق پاکستان نے اپنے فضائی حدود اور بحیرہ عرب کے سمندری فضائی حدود...
بی جے پی راہنما راجیشور سنگھ کا کہنا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے مطابق 2021 تک...

Comments

Leave a Reply

OUR FB PAGE

My Instagram

DEFENCE NEWS

KASHMIR NEWS

DEFENCE BLOG

%d bloggers like this: