پاکستان کے کروز میزائل دشمنوں کیلئے ایک تباہ کن سٹرائیک پاور کی علامت ہیں۔ یاد رہے کہ کروز میزائل جیٹ انجن اور ایرو ڈائنامک لفٹ کے سہارے پرواز کرنے والا ۔۔ ایک ایسا بغیر پائلٹ ہتھیار بردار ڈرون ہے ۔۔ جسے دور دراز کے اہداف کو انتہائی پرفیکٹ نشانہ بنانے کیلئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ اپنے ہدف کو تلاش کرنے کیلئے پوزیشننگ سسٹم ، گائیڈنس ، سکرین ویژن ۔۔ اور ریجنل موازنہ کرنے والے جدید ترین ریڈار کا استعمال کرتا ہے۔ یہ میزائل نیچی پرواز کی وجہ سے دشمن کے ریڈار کی نظروں سے چھپ کر کامیابی سے اہداف پر حملہ آور ہوتا ہے۔
ہیوی ویٹ بیلسٹک میزائل کے برعکس لائیٹ ویٹ کروز میزائل دراصل نیچی پرواز ۔۔ اور ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھنے والے ایسے گائیڈڈ میزائل ہیں۔۔ جنہیں خاص طور پر بحری جہازوں ، جنگی کمانڈ بنکروں۔۔ دریاؤں کے پلوں اور پانی کے ڈیموں جیسے اہداف کو تباہ کرنے کیلئے ڈیزائین کیا گیا ہے
میزائل سازی کی تاریخ
پاکستان 2005ء میں اپنا پہلا کروز میزائیل بابر تیار چکا تھا ۔ جبکہ ابھی اس کے جدید ورژن اور مختلف پلیٹ فارموں سے داغے جانے والے ان ماڈلوں کی تیاری کا کام جاری ہے۔۔ جو بحری جہازوں اور دیگر دفاعی اہداف کو ۔۔ انتہائی کامیابی سے درست نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
سنہ 2016 ء سے پاکستان نے اینٹی شپ کروز میزائیل ( اے ایس سی ایم ) ۔۔ اور زمینی حملوں کیلئے ( ایل اے سی ایم ) کے کئی کامیاب تجربات کیے ہیں۔ جن میں ساحلی اور زمینی انٹی شپ کروز میزائیل ضرب اور ۔۔ دوہرا یعنی انٹی شپ اینڈ لینڈ اٹیک کی دوہری صلاحیت والا کروز میزائیل حربہ شامل ہے۔ ضرب کروز میزائیل ( سی – 802 ) اور شپ لانچڈ بابر -2 ( سی – 602 ) ۔۔ یعنی حربہ اور آبدوز سے لانچ کئے جانے والے بابر – 3 ۔۔ بنیادی ڈیزائین ، ٹیکنالوجی اور خصوصیات میں ایک دوسرے سے مختلف ۔۔ لیکن کامیاب ورژن تسلیم کیے جاتے ہیں
سنگل اور دوہرے آپشن والے بابر 1 ، بابر 1 – بی اور بابر – 2 میں جدید ترین ایروڈینامکس اور ایڈوانس ایویئنکس کو شامل کیا جا سکتا ہے۔ جس سے یہ زمین اور سمندر دونوں لوکیشن پر اہداف کو انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنا سکتے ہیں۔ نیچی پرواز کے ساتھ 150 کلومیٹر سے 700 کلومیٹر تک کی رینج والے کروز میزائلوں میں ریڈار کی نظر سے اوجھل رہنے کیلئے کچھ اسٹیلتھ خصوصیات بھی موجود ہیں۔ اور یہ ایٹمی وارہیڈ سمیت مختلف قسم کے تباہ ہتھیاروں کی ترسیل کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں
عالمی معیار
یاد رہے کہ ایٹمی وارہیڈ کو ہدف تک پہنچانے کیلئے جس ڈیلیوری سسٹم کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان میں جنگی طیارے، بیلسٹک میزائیل، کروز میزائیل، توپ خانہ اور خلا سے زمین پر مار کرنے والا نیوکلیر بیسڈ سیٹیلائٹ سسٹم شامل ہیں۔ پاکستان آبدوز سے اپنے جدید ترین کروز میزائیل بابر3 کا کامیاب تجربہ کرکے زمین ، فضا ۔ سمندر اور زیر سمندر سے کروز میزائل لانچ کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کرچکا ہے۔
امریکہ ، روس، برطانیہ ، چین اور فرانس جیسے ترقی یافتہ ممالک کے علاوہ تیسری دنیا میں صرف پاکستان اور شمالی کوریا ہی ایسے دو ممالک ہیں جو خلا کے علاوہ باقی چاروں پلیٹ فارمز سے کروز میزائیل لانچ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں ۔
بھارت کے ممکنہ کولڈ اسٹارٹ ڈاکٹرائن کے سدباب کیلئے ۔۔ پاکستان نے ایٹمی صلاحیت رکھنے والے ترقی یافتہ ممالک کی طرح ۔۔ سیکنڈ اسٹرائیک کی صلاحیت حاصل کرنے کیلئے جو مسلسل جدوجہد کی۔۔ اس کا نتیجہ بحری آبدوز لانچر سے فائر کیے جانے والے کروز میزائل بابر – 3 کا کامیاب تجربہ تھا ۔ بابر – 3 پاکستانی سمندوں سے بحرِ ہند تک سمندر اور خشکی پر ۔۔ کسی بھی دفاعی یا سٹریٹجک ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنا سکتا ہے۔
ایٹمی وار ہیڈ ڈلیوری کی صلاحیت کا حامل کروز میزائیل بابر – 3 اپنے لانچنگ بیس سے 450 کلو میٹر کی دوری تک یعنی پاکستان کی سمندری حدود سے ممبئی تک کسی بھی ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنا سکتا ہے۔
ایٹم برداری کی صلاحیت
عالمی میزائل ایکسپرٹس 40 – 180 کلومیٹر کی رینج والے پاکستانی ایگزوسٹ میزائیل ، 350 کلومیٹر کی رینج والے فضائی کروز میزائیل حتف 8 رعد اور امریکی ٹاک ہاک جیسے 700 کلومیٹر کی رینج والے حتف 7 بابر کے بحری اور زمینی ورژن کو کامیاب دفاعی ٹیکنالوجی کا حامل تسلیم کرتے ہیں ۔ پاکستان کے کامیاب کروز میزائل پروگرام کی افادیت اور منفرد کامیابی یہ ہے کہ پاکستان نے زمینی ، بحری جہازی اور آبدوزو لانچنگ پیڈ کے ساتھ ساتھ فضا سے جنگی طیارے کی مدد سے فائر کیے جانے والے جو کامیاب ورژن تیار کر چکا ہے وہ ایٹمی ہتھیاروں کی ترسیل کی صلاحیت کے بھی حامل ہیں۔
تازہ ترین خبروں کے مطابق پاکستان کے تیار کردہ جدید ترین فتح 3 کروز میزائل کا کامیاب تجربہ پاکستان کی سلامتی کے دشمنوں کیلئے کسی ڈراؤنے خواب جیسا ہے۔ تین ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ سے زائد رفتار کے ساتھ ایٹمی اور روائیتی اسلحہ لیجانے کی صلاحیت کا حامل یہ میزائل خطے کی ملٹری پاور کے توازن میں ایک فیصلہ کن گیم جینجر ثابت ہو گا۔
(تحریر : فاروق رشید بٹ)
اس حوالے سے میرا یہ مضمون بھی پڑھیں
پاکستان کے ٹیکٹیکل ایٹمی ہتھیار حتف اور نصر بھارتی جارحیت کیلئے سڈن ڈیتھ


